TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 24767 · A B C

Musnad AhmadHadith 24767

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاحَهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا قَالَ فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا قَالَ فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا رَضِيتُمْ قَالُوا لَا فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا فَكَفُّوا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ وَقَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے ایک علاقے میں بھیجا، وہاں ایک آدمی نے زکوۃ کی ادائیگی میں ابوجہم سے جھگڑا کیا، ابوجہم نے اسے مارا اور زخمی ہوگیا، اس قبیلے کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قصاص دلوائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم قصاص کا مطالبہ چھوڑ دو، میں تمہیں اتنا مال دوں گا، لیکن وہ لوگ راضی نہ ہوئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مقدار میں مزید اضافہ کیا، لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے ، البتہ تیسری مرتبہ اضافہ کرنے پر وہ لوگ راضی ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں لوگوں سے مخاطب ہو کر انہیں تمہاری رضا مندی کے متعلق بتا دوں؟ انہوں نے کہا جی ضرور۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قبیلہ کے یہ لوگ میرے پاس قصاص کی درخواست لے کر آئے تھے، میں نے انہیں اتنے مال کی پیشکش کی ہے اور یہ راضی ہو گئے ہیں، پھر ان سے فرمایا کیا تم راضی ہو گئے ؟ انہوں نے انکار کر دیا، اس پر مہاجرین کو بہت غصہ آیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رکنے کا حکم دے دیا، وہ رک گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر مقررہ مقدار میں مزید اضافہ کر دیا اور فرمایا اب تو راضی ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں لوگوں سے مخاطب ہو کر انہیں تمہاری رضامندی کے متعلق بتا دوں؟ انہوں نے کہا جی ضرور، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور ان سے پوچھا کیا تم راضی ہو گئے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں!

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات