TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 24871 · A B C

Musnad AhmadHadith 24871

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ وَأَهَلَّ نَاسٌ مَعَهُ بِالْعُمْرَةِ وَسَاقُوا الْهَدْيَ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُوقُوا هَدْيًا قَالَتْ عَائِشَةُ فَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ أَسُقْ هَدْيًا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَا يَحِلُّ مِنْهُ شَيْءٌ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَيَنْحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُقْ مَعَهُ هَدْيًا فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ لِيُفِضْ وَلْيَحِلَّ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ الَّذِي خَافَ فَوْتَهُ وَأَخَّرَ الْعُمْرَةَ

ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا اور اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے گئے تھے، جبکہ کچھ لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا اور ہدی ساتھ لے گئے ، اور کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن ہدی ساتھ نہیں لے کر گئے ، میں اس آخری قسم کے لوگوں میں شامل تھی، مکہ مکرمہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص عمرے کا احرام باندھ کر ہدی ساتھ لایا ہے، اسے چاہیے کہ بیت اللہ کا طواف اور صفاء مروہ کی سعی کر لے اور دس ذی الحجہ کو قربانی کرنے اور حج مکمل ہونے تک اپنے اوپر کوئی چیز محرمات میں سے حلال نہ سمجھے اور جو ہدی نہیں لایا وہ طواف اور سعی کر کے حلال ہو جائے ، بعد میں حج کا احرام باندھ کر ہدی لے جائے، جس شخص کو قربانی کا جانور نہ ملے ، وہ حج کے ایام میں تین اور گھر واپس آنے کے بعد سات روزے رکھ لے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کو " جس کے فوت ہونے کا اندیشہ تھا " مقدم کر کے عمرے کو مؤخر کر دیا۔

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات