TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 25448 · A B C

Musnad AhmadHadith 25448

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بِمِنًى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي وَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا فَلَمَّا احْتُضِرَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ اللَّهُمَّ اخْلُفْنِي فِي أَهْلِي بِخَيْرٍ فَلَمَّا قُبِضَ قُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا قَالَتْ وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ وَأَبْدِلْنِي خَيْرًا مِنْهَا فَقُلْتُ وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ فَمَا زِلْتُ حَتَّى قُلْتُهَا فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا أَبُو بَكْرٍ فَرَدَّتْهُ ثُمَّ خَطَبَهَا عُمَرُ فَرَدَّتْهُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِرَسُولِهِ أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى وَأَنِّي مُصْبِيَةٌ وَأَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي مُصْبِيَةٌ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَكْفِيكِ صِبْيَانَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي غَيْرَى فَسَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ غَيْرَتَكِ وَأَمَّا الْأَوْلِيَاءُ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ إِلَّا سَيَرْضَانِي قُلْتُ يَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ شَيْئًا مِمَّا أَعْطَيْتُ أُخْتَكِ فُلَانَةَ رَحَيَيْنِ وَجَرَّتَيْنِ وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا فَإِذَا جَاءَ أَخَذَتْ زَيْنَبَ فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِهَا لِتُرْضِعَهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيِيًّا كَرِيمًا يَسْتَحْيِي فَرَجَعَ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا فَفَطِنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِمَا تَصْنَعُ فَأَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ وَجَاءَ عَمَّارٌ وَكَانَ أَخَاهَا لِأُمِّهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَانْتَشَطَهَا مِنْ حِجْرِهَا وَقَالَ دَعِي هَذِهِ الْمَقْبُوحَةَ الْمَشْقُوحَةَ الَّتِي آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يُقَلِّبُ بَصَرَهُ فِي الْبَيْتِ وَيَقُولُ أَيْنَ زَنَابُ مَا فَعَلَتْ زَنَابُ قَالَتْ جَاءَ عَمَّارٌ فَذَهَبَ بِهَا قَالَ فَبَنَى بِأَهْلِهِ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ سَبَّعْتُ لِلنِّسَاءِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلٌ

حضرت ام سلمہ سے بحوالہ ابوسلمہ مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے تو اسے انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کریوں کہنا چاہئے اے اللہ میں تیرے سامنے اس مصیبت پرثواب کی نیت کرتا ہوں تو مجھے اس پر اجرعطاء فرما اور اس کا نعم البدل عطاء فرمایا جب حضرت ابوسلمہ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے دعاء کی کہ اے اللہ میرے شوہر کے ساتھ خیر کا فیصلہ فرما جب وہ فوت ہو گئے تو میں نے مذکورہ دعاء پڑھی اور جب میں نے یہ کہنا چاہا کہ مجھے اس کا نعم البدل عطاء فرما تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتاہے؟ لیکن پھر بھی میں یہ کہتی رہی، جب عدت گزر گئی تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے پے درپے پیغام نکاح بھیجے لیکن انہوں نے اسے رد کردیا پھر نبی علیہ السلام نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا تو کوئی والی یہاں موجود نہیں ہے، نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا انہوں نے اپنے بیٹے عمربن ابی سلمہ سے کہا کہ تم نبی علیہ السلام سے میرا نکاح کرادو چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کو نبی علیہ السلام کے نکاح میں دیدیا۔ پھر نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہاری بہنوں (اپنی بیویوں ) کو جو کچھ دیا ہے تمہیں بھی اس سے کم نہیں دوں گا، دوچکیاں ، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اس کے بعد نبی علیہ السلام جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی علیہ السلام کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی علیہ السلام یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی علیہ السلام کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔اس مرتبہ نبی علیہ السلام تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں ، پھر نبی علیہ السلام نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت ام سلمہ کی مرویات