Musnad Ahmad — Hadith 25492
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ جَاءَ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دُرِسَتْ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ أَوْ قَدْ قَالَ لِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَإِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ يَأْتِي بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَبَكَى الرَّجُلَانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَقِّي لِأَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِذْ قُلْتُمَا فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا ثُمَّ تَوَخَّيَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَهِمَا ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ
حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دوانصاری میراث کے مسئلے میں اپنا مقدمہ لے کر نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا جس پر ان کے پاس گواہ بھی نہ تھا، نبی علیہ السلام نے نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو ، ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت وبلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لوکہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں، جسے وہ قیامت کے دن اپنے گلے میں لٹکا کر لائے گا، یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا کہ یہ میرے بھائی کا حق ہے، نبی علیہ السلام نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو جا کر اسے تقسیم کرلو اور حق طریقے سے قرعہ اندازی کرلو اور ہر ایک دوسرے سے اپنے لئے حلال کروالو۔
-