TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 3094 · A B C

Musnad AhmadHadith 3094

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُهُمْ وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مِثْلَ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنْ الْغُلَامِ

یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں ، ہاں ! ہاں ! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے ( اور تمہارے لیے ممکن نہیں ہے)

-

Permalink

See the full chapter: عبداللہ بن عباس کی مرویات