Sahih Bukhari — Hadith 1309
Narrated by Abu Aiyub
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ مَا لَهُ مَا لَهُ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَبٌ مَا لَهُ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّکَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ وَقَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ وَأَبُوهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَی بْنَ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ أَخْشَی أَنْ يَکُونَ مُحَمَّدٌ غَيْرَ مَحْفُوظٍ إِنَّمَا هُوَ عَمْرٌو
حفص بن عمرو، شعبہ، محمد بن عثمان بن عبداللہ بن موہب، موسیٰ بن طلحہ، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے عرض کیا کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کردے؟ آپ نے فرمایا کہ اس کو کیا ہوگیا، اس کو کیا ہوگیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صاحب ضرورت ہے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کا کسی کو شریک نہ بنا، نماز قائم کر اور زکوۃ دے اور صلہ رحمی کر، اور بہز کا بیان ہے کہ مجھ سے شعبہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے محمد بن عثمان اور ان کے والد عثمان بن عبداللہ نے بیان کیا کہ موسیٰ بن طلحہ سے انہوں نے ابوایوب سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا ابوعبداللہ نے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ محمد غیر محفوظ ہو بلکہ وہ عمرو ہو۔
Narrated Abu Aiyub: A man said to the Prophet "Tell me of such a deed as will make me enter Paradise." The people said, "What is the matter with him? What is the matter with him?" The Prophet said, "He has something to ask. (What he needs greatly) The Prophet said: (In order to enter Paradise) you should worship Allah and do not ascribe any partners to Him, offer prayer perfectly, pay the Zakat and keep good relations with your Kith and kin." (See Hadith No. 12, Vol 8). ________________________________________