TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 1337 · Explanation of Zakat

Sahih BukhariHadith 1337

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا کَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ

عبدان، عبداللہ ، یونس، زہری، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ صدقہ پہلے ان لوگوں پر کر جن کی تجھ پر ذمہ داری ہے اور ان لوگوں سے ابتداء کر جو کہ تیری نگرانی میں ہیں۔

Narrated Abu Huraira : The Prophet (p.b.u.h) said, "The best charity is that which is practiced by a wealthy person. And start giving first to your dependents." ________________________________________

Permalink

See the full chapter: صدقہ اسی صورت میں جائز ہے کہ اس کی مالداری قائم رہے اور جس نے خیرات کیا اس حال میں کہ وہ آپ محتاج ہے یا اس کے گھر والے محتاج ہیں، یا اس پر دین ہے تو دین کا ادا کرنا صدقہ سے اور آزادی وہبہ سے زیادہ مستحق ہے اور وہ اس پر پھیر دیا جائے گا اسے حق نہیں کہ لوگوں کے مالوں کو تلف کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے لوگوں کے مال لئے اور اس کا ارادہ اسے تلف کرنے کا ہے تو اللہ اسے برباد کرے گا بشرطے کہ وہ صبر میں مشہور ہو اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دے سکتا ہو، اگرچہ اسے احتیاج ہو، جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا کہ جب اپنا مال صدقہ کیا تو سارا مال دے دیا اور اسی طرح انصار نے مہاجرین کو ترجیح دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ۔ اس لئے کہ اسے حق نہیں کہ دوسروں کا مال صدقہ کی بناء پر تباہ کرے ۔ اور کعب بن مالک نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی توبہ کی (مقبولیت کے) سبب سے چاہتا ہوں کہ اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول پر نثار کرکے اس سے دست وبردار ہوجاو