TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 1522 · Explanation of Hajj

Sahih BukhariHadith 1522

Narrated by Urwa from Aisha

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَاسًا طَافُوا بِالْبَيْتِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ قَعَدُوا إِلَی الْمُذَکِّرِ حَتَّی إِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ قَامُوا يُصَلُّونَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَعَدُوا حَتَّی إِذَا کَانَتْ السَّاعَةُ الَّتِي تُکْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ قَامُوا يُصَلُّونَ

حسن بن عمربصری، یزید بن زریع، حبیب، عطاء، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے فجر کی نماز کے بعد خانہ کعبہ کا طواف کیا، پھر ایک واعظ کے پاس بیٹھ گئے، یہاں تک کہ جب آفتاب طلوع ہوگیا، تو لوگ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگ بیٹھے رہے یہاں تک کہ جب وہ وقت آیا جس میں نماز مکروہ ہے تو لوگ نماز پڑھنے لگے۔

Narrated Urwa from Aisha: Some people performed Tawaf (of the Kaba) after the morning prayer and then sat to listen to a preacher till sunrise, and then they stood up for the prayer. Then Aisha commented, "Those people kept on sitting till it was the time in which the prayer is disliked and after that they stood up for the prayer." ________________________________________

Permalink

See the full chapter: فجر اور عصر کے بعد طواف کرنے کا بیان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ طواف کی دو رکعتیں نماز پڑھتے تھے، جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہوجاتا اور عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز کے بعد طواف کیا، پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ ذی طوی میں دو رکعتیں پڑھیں ۔ (حنفیہ کے ہاں نماز فجر کے بعد نوافل پڑھنا مکروہ ہے ۔ جب سورج طلوع ہوجائے اور وقت مکروہ نکل جائے تب نماز پڑھنی چاہیے)