TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 191 · Discussion on Wudu

Sahih BukhariHadith 191

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسٍ وَرَجُلٍ آخَرَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنْ الرَّجُلُ الْآخَرُ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَکَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْدَمَا دَخَلَ بَيْتَهُ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ هَرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْکِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَی النَّاسِ وَأُجْلِسَ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ تِلْکَ حَتَّی طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی النَّاسِ

ابوالیمان شعیب، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آخری مرض میں) بیمار ہوئے اور آپ کا مرض سخت ہو گیا تو آپ نے اپنی بیبیوں سے اجازت مانگی کہ میرے گھر میں آپ کی تیمار داری کی جائے، تو سب نے آپ کو اجازت دے دی، تب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (میرے گھر آنے کے لئے دو آدمیوں کے درمیان میں (سہارا لے کر) نکلے، دونوں پیر (مبارک) آپ کے زمین میں گھسٹتے ہوئے جاتے تھے، عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اور ایک اور شخص کے درمیان آپ نکلے تھے عبیداللہ (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی خبر دی تو انہوں نے کہا تم جانتے ہو کہ دوسرا شخص کون تھا؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان کے گھر آچکے اور آپ کا مرض اور بھی زیادہ ہوا تو آپ نے فرمایا کہ سات مشکیں جن کے بند نہ کھولے گئے ہوں، میرے اوپر ڈال دو، تاکہ میں لوگوں کو کچھ وصیت کروں ( چنانچہ ) اس کی تعمیل کی گئی اور آپ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخضب میں بٹھلا دیئے گئے، اس کے بعد ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر پانی ڈالنا شروع کیا جب آپ نے اشارے سے فرمایا کہ بس، اب تم تعمیل حکم کر چکیں (تب ہم نے موقوف کیا) اس کے بعد آپ لوگوں کے پاس باہر تشریف لے گئے۔

Narrated 'Aisha: When the ailment of the Prophet became aggravated and his disease became severe, he asked his wives to permit him to be nursed (treated) in my house. So they gave him the permission. Then the Prophet came (to my house) with the support of two men, and his legs were dragging on the ground, between 'Abbas, and another man." 'Ubaid-Ullah (the sub narrator) said, "I informed 'Abdullah bin 'Abbas of what'Aisha said. Ibn 'Abbas said: 'Do you know who the other man was?' I replied in the negative. Ibn 'Abbas said, 'He was 'Ali (bin Abi Talib)." 'Aisha further said, "When the Prophet came to my house and his sickness became aggravated he ordered us to pour seven skins full of water on him, so that he might give some advice to the people. So he was seated in a Mikhdab (brass tub) belonging to Hafsa, the wife of the Prophet. Then, all of us started pouring water on him from the water skins till he beckoned to us to stop and that we have done (what he wanted us to do). After that he went out to the people."

Permalink

See the full chapter: لگن، پیالے اور لکڑی اور پتھر کے برتن سے غسل اور وضو کرنے کا بیان