TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 2205 · Statement on Musaqat (Irrigation Contract)

Sahih BukhariHadith 2205

حدثناعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنْ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَعَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ فِي الْعَبْدِ

عبداللہ بن یوسف، لیث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کھجور کا درخت پیوند لگائے جانے کے بعد خریدا تو اس کا پھل بائع کا ہے، لیکن جب خریدار اس کی شرط کر دے (تو خریدار کا ہوگا) اور جس نے غلام خریدا اور اس کے پاس مال تھا، تو اس کا مال بیچنے والے کا ہے، مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی شرط کر لے، اور بواسطہ مالک، نافع، ابن عمر، جو حدیث ہے، اس میں صرف غلام کا بیان ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: کھجور کے باغ میں کسی شخص کے گزرنے کا راستہ ہو یا پانی کا کوئی چشمہ ہو، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جس نے پیوند کر نے کے بعد کسی درخت کو بیچا تو اس کا پھل بائع کا ہوگا اور گزرنے کا راستہ اور چشمہ بائع کا ہوگا یہاں تک کہ وہ راستہ ہٹا لیا جائے اور یہی حکم عریہ والے کا بھی ہے ۔