Sahih Bukhari — Hadith 2280
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَائَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيکٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنْ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا فَقَالَ لَا حَرَجَ عَلَيْکِ أَنْ تُطْعِمِيهِمْ بِالْمَعْرُوفِ
ابو الیمان ، شعیب، زہری، عروہ، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوسفیان بہت بخیل آدمی ہے، کوئی حرج ہے، اگر اس کا مال لے کر میں بچوں کو کھلاؤں، آپ نے فرمایا، اگر تو انہیں دستور کے مطابق کھلائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
Narrated Aisha: Hind bint 'Utba (Abu Sufyan's wife) came and said, "O Allah's Apostle! Abu Sufyan is a miser. Is there any harm if I spend something from his property for our children?" He said, there is no harm for you if you feed them from it justly and reasonably (with no extravagance)."