Sahih Bukhari — Hadith 4093
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْمُسْلِمِينَ بَيْنَا هُمْ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَأَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي لَهُمْ لَمْ يَفْجَأْهُمْ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ فِي صُفُوفِ الصَّلَاةِ ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَکُ فَنَکَصَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَی الصَّلَاةِ فَقَالَ أَنَسٌ وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلَاتِهِمْ فَرَحًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَکُمْ ثُمَّ دَخَلَ الْحُجْرَةَ وَأَرْخَی السِّتْرَ
سعید بن عفیر لیث عقیل، ابن شہاب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ، ہم لوگ مسجد نبوی میں پیر کے دن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز ادا کر رہے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے کا پردہ اٹھا کر ہماری طرف دیکھا کہ سب نماز میں مشغول ہیں آپ مسکرا دیئے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خیال کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لا رہے ہیں، تو انہوں نے پیچھے ہٹنا شروع کیا آپ نے اشارہ سے منع کردیا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی اور وہ نیت توڑنا چاہتے تھے کہ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود نماز پڑھائیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کردیا (جس کا مطلب یہ تھا) کہ اپنی نماز کو پورا کرو پھر آپ حجرہ شریف میں داخل ہو گئے اور پردہ کو چھوڑ دیا۔
Narrated Anas bin Malik: While the Muslims were offering the Fajr prayer on Monday and Abu Bakr was leading them in prayer, suddenly Allah's Apostle lifted the curtain of 'Aisha's dwelling and looked at them while they were in the rows of the prayers and smiled. Abu Bakr retreated to join the row, thinking that Allah's Apostle wanted to come out for the prayer. The Muslims were about to be put to trial in their prayer (i.e. were about to give up praying) because of being overjoyed at seeing Allah's Apostle. But Allah's Apostle beckoned them with his hand to complete their prayer and then entered the dwelling and let fall the curtain.