Sahih Bukhari — Hadith 4094
Narrated by Aisha
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَکْوَانَ مَوْلَی عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ کَانَتْ تَقُولُ إِنَّ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عَلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَأَنَّ اللَّهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ دَخَلَ عَلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبِيَدِهِ السِّوَاکُ وَأَنَا مُسْنِدَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ السِّوَاکَ فَقُلْتُ آخُذُهُ لَکَ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ نَعَمْ فَتَنَاوَلْتُهُ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَقُلْتُ أُلَيِّنُهُ لَکَ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ نَعَمْ فَلَيَّنْتُهُ فَأَمَرَّهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَکْوَةٌ أَوْ عُلْبَةٌ يَشُکُّ عُمَرُ فِيهَا مَائٌ فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَائِ فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَکَرَاتٍ ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ فَجَعَلَ يَقُولُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَی حَتَّی قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ
محمد بن عبید عیسیٰ بن یونس عمر بن سعید ابن ابی ملیکہ ابا عمر اور ذکوان (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزار کردہ غلام) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا، کہ یہ خدا کی ایک نعمت اور عنایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری باری کے دن میں، میرے گھر میں، میرے سینہ سے ٹیک لگائے ہوئے وفات پائی اور وفات کے وقت اللہ تعالیٰ نے میرا اور حضور کا لعاب بھی ملا دیا بات یہ ہوئی، کہ عبدالرحمن ہری مسواک لئے ہوئے گھر میں داخل ہوئے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے، تو آپ نے ان کی طرف دیکھا، میں نے عرض کیا، کیا آپ مسواک چاہتے ہیں؟ آپ نے اشارہ سے ہاں فرمایا، لہذا میں نے ان سے مسواک لے کر چبائی تاکہ نرم ہوجائے پھر آپ کو دی، آپ نے اچھی طرح مسواک کی اور آپ کے پاس پانی کا ایک برتن رکھا تھا، آپ اپنا ہاتھ پانی میں ڈال کر منہ پر پھیرتے اور فرماتے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَکَرَاتٍ، یعنی خدا کے سوائی کوئی معبود نہیں، بیشک موت کی بڑی تکلیف ہوتی ہے، پھر آپ نے ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَی، اس کے بعد آپ رحلت فرماگئے اور ہاتھ نیچے آگیا۔
Narrated Aisha: It was one of the favors of Allah towards me that Allah's Apostle expired in my house on the day of my turn while he was leaning against my chest and Allah made my saliva mix with his saliva at his death. 'Abdur-Rahman entered upon me with a Siwak in his hand and I was supporting (the back of) Allah's Apostle (against my chest ). I saw the Prophet looking at it (i.e. Siwak) and I knew that he loved the Siwak, so I said ( to him ), "Shall I take it for you ? " He nodded in agreement. So I took it and it was too stiff for him to use, so I said, "Shall I soften it for you ?" He nodded his approval. So I softened it and he cleaned his teeth with it. In front of him there was a jug or a tin, (The sub-narrator, 'Umar is in doubt as to which was right) containing water. He started dipping his hand in the water and rubbing his face with it, he said, "None has the right to be worshipped except Allah. Death has its agonies." He then lifted his hands (towards the sky) and started saying, "With the highest companion," till he expired and his hand dropped down.