TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 4222 · Explanation of Tafsir (Quranic Exegesis)

Sahih BukhariHadith 4222

Narrated by Ibn Abi Mulaika

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ تَلَا إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ قَالَ کُنْتُ أَنَا وَأُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ وَيُذْکَرُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ حَصِرَتْ ضَاقَتْ تَلْوُوا أَلْسِنَتَکُمْ بِالشَّهَادَةِ وَقَالَ غَيْرُهُ الْمُرَاغَمُ الْمُهَاجَرُ رَاغَمْتُ هَاجَرْتُ قَوْمِي مَوْقُوتًا مُوَقَّتًا وَقْتَهُ عَلَيْهِمْ

سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت (اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ۔ الخ) 4۔ النسآء : 98) الآیۃ کو پڑھا اور فرمانے لگے کہ میں اور میری والدہ (ام فضل) کمزوروں میں شامل ہیں اللہ نے ہم دونوں کو معذور رکھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ " حصرت ضاقت" کے معنی یہ ہیں کہ ان کے دل تنگ ہیں اور " تَلْوُوا أَلْسِنَتَکُمْ" کے معنی ہیں کہ زبان کو پھیر کر گواہی دو اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ " المراغم" کے معنی ہیں ہجرت کا مقام اور " موقوتا " کے معنی ہیں وقت مقررہ۔

Narrated Ibn Abi Mulaika: Ibn Abbas recited:-- "Except the weak ones among men women and children," (4.98) and said, "My mother and I were among those whom Allah had excused."

Permalink

See the full chapter: اللہ تعالیٰ کا قول کہ تمہیں کیا ہے؟ کہ تم خدا کے راستہ میں نہیں لڑتے الظالم اھلھا تک کی تفسیر