Sahih Bukhari — Hadith 654
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ وَنَزَلَ بِكَ مَا نَرَى وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ وَنَتَحَرَّجُ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ وَإِذَا أَسَاءُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ قَالَ الزُّهْرِيُّ لَا نَرَى أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُخَنَّثِ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ لَا بُدَّ مِنْهَا
ہم سے محمد بن یوسف نے بواسطہ اوزاعی زہری حمید بن عبدالرحمن عبداللہ بن عدی بن خیار سے روایت کی ہے کہ وہ عثمان بن عفان کے پاس اس حالت میں گئے جب وہ اپنے گھر میں محصور تھے باغیوں نے ہر طرف سے محاصرہ کر لیا تھا ان سے کہا کہ آپ امام کل ہیں اور آہ کی یہ کیفیت ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں ہمیں امام فتنہ نماز پڑھاتا ہے جس سے ہم تنگ دل ہوتے ہیں تو عثمان نے فرمایا کہ نماز آدمی کے تمام اعمال مٰنسب سے عمدہ چیز ہے جب لوگ عمدہ کام کریں تو تم ان کی برائی سے علیحدہ رہو اور زبیدی کہتے ہیں کہ زہری کا قول کہ ہم مخنث کے پیچھے نماز پڑہنا جائز نہیں جانتے لیکن جب مجبوری ہو
-