Sahih Bukhari — Hadith 6946
Narrated by 'Urwa bin Az-Zubair
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْکِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَکُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ الْحَدِيثِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَلَکِنِّي وَاللَّهِ مَا کُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ يُنْزِلُ فِي بَرَائَتِي وَحْيًا يُتْلَی وَلَشَأْنِي فِي نَفْسِي کَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَکَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَی وَلَکِنِّي کُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی إِنَّ الَّذِينَ جَائُوا بِالْإِفْکِ الْعَشْرَ الْآيَاتِ
حجاج بن منہال، عبداللہ بن عمر نمیری، یونس بن یزید ایلی، زہری سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے حضرت عائشہ زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واقعہ افک کے متعلق جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کی برات ظاہر کردی تھی یہ حدیث سنی، اور ان میں سے ہر ایک نے ایک ایک ٹکڑا بیان کیا جو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی تھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم! میرا گمان نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میری برات میں کوئی وحی نازل فرمائے گا جو پڑھی جائے گی اور اپنے دل میں اپنی شان حقیر جانتی تھی، کہ اللہ تعالیٰ میرے متعلق اس طرح کلام کرے کہ قیامت تک پڑھی جائے بلکہ مجھے (بس) یہ امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند میں کوئی خواب دیکھیں گے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ میری برات ظاہر فرمائے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دس آیتیں اِنَّ الَّذِيْنَ جَا ءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ الخ 24۔ النور : 11) نازل فرمائیں۔
Narrated 'Urwa bin Az-Zubair: Sa'id bin Al-Musaiyab, 'Alqama bin Waqqas and 'Ubaidullah bin 'Abdullah regarding the narrating of the forged statement against 'Aisha, the wife of the Prophet, when the slanderers said what they said and Allah revealed her innocence. 'Aisha said, "But by Allah, I did not think that Allah, (to confirm my innocence), would reveal Divine Inspiration which would be recited, for I consider myself too unimportant to be talked about by Allah through Divine Inspiration revealed for recitation, but I hoped that Allah's Apostle might have a dream in which Allah would reveal my innocence. So Allah revealed:-- 'Verily! Those who spread the slander are a gang among you...' (The ten Verses in Surat-an-Nur) (24.11-20)