TrueHadith

Sahih Muslim, Hadith 4029 · Explanation of Greeting (Salam)

Sahih MuslimHadith 4029

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْکَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْکُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ بَلَی قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا

ہارون بن عبداللہ حجاج بن شاعر، حجاج بن محمد ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ کو سلام کیا کہا السَّامُ عَلَيْکَ اے ابوالقاسم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وَعَلَیکُم سیدہ عائشہ نے غصہ میں آکر عرض کیا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں بلکہ میں نے سنا پھر ان کو جواب دے دیا اور ہماری بد دعا ان کے خلاف مقبول ہوگی اور ان کی بددعا ہمارے خلاف قبول نہ کی جائے گی۔

Jabir b. Abdullah reported that some people from amongst the Jews said to Allah's Messenger (may peace be upon him) Abu'l-Qasim as-Sam-u-'Alaikum, whereupon he said: Wa 'Alaikum. A'isha was enraged and asked him (Allah's Apostle) whether he had not heard what they had said. He said, I did hear and I retorted to them (and the curse that I invoked upon them would receive response from Allah), but (the curse that they invoked upon us) would not be responded.

Permalink

See the full chapter: اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں ۔