TrueHadith

Sahih Muslim, Hadith 4086 · Explanation of Greeting (Salam)

Sahih MuslimHadith 4086

حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ جَائَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي أَهْلِنَا وَرَجُلٌ يَشْتَکِي خُرَاجًا بِهِ أَوْ جِرَاحًا فَقَالَ مَا تَشْتَکِي قَالَ خُرَاجٌ بِي قَدْ شَقَّ عَلَيَّ فَقَالَ يَا غُلَامُ ائْتِنِي بِحَجَّامٍ فَقَالَ لَهُ مَا تَصْنَعُ بِالْحَجَّامِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّقَ فِيهِ مِحْجَمًا قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ الذُّبَابَ لَيُصِيبُنِي أَوْ يُصِيبُنِي الثَّوْبُ فَيُؤْذِينِي وَيَشُقُّ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَی تَبَرُّمَهُ مِنْ ذَلِکَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ کَانَ فِي شَيْئٍ مِنْ أَدْوِيَتِکُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَکْتَوِيَ قَالَ فَجَائَ بِحَجَّامٍ فَشَرَطَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ

نصر بن علی جہضمی عبدالرحمن بن سلیمان بن عاصم، عمر قتادہ، حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عمر بن قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبداللہ ہمارے گھر تشریف لائے اور ایک آدمی پھوڑے یا زخم کی تکلیف کی شکایت کر رہا تھا آپ نے کہا تجھے کیا تکلیف ہے اس نے کہا مجھے پھوڑا ہے جو سخت تکلیف دے رہا ہے جابر نے کہا اے نوجوان میرے پچھنے لگانے والے کو بلا لاؤ اس نے کہا اے ابوعبداللہ پچھنے لگانے والے کا کیا کریں گے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں زخم میں پچھنے لگوانا چاہتا ہوں اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے مکھیاں ستائیں گی یا کپڑا لگے گا جو مجھے تکلیف دے گا اور یہ مجھ پر سخت گزرے گا جب انہوں نے دیکھا کہ یہ شخص پچھنے لگوانے سے بچنا چاہتا ہے تو کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں بھلائی ہے تو وہ پچھنے لگوانے شہد کے شربت اور آگ سے داغنے میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں داغ لگوانے کو پسند کرتا پس ایک حجام آیا اور اس نے اسے پچھنے لگائے جس سے اس کی تکلیف دور ہو گئی۔

'Asim b. 'Umar b. Qatada reported: There came to our house 'Abdullah and another person from amongst the members of the household who complained of a wound. Jabir said: What ails you? He said: There is a wound which is very painful for me, whereupon he said: Boy, bring to me a cupper. He said: 'Abdullah, what do you intend to do with the cupper? I said: I would get this wound cupped. He said: By Allah, even the touch of fly or cloth causes me pain and cupping would thus cause me (unbearable) pain. And when he saw him feeling pain (at the idea of cupping), he said: I heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: If there is any effective remedy amongst your remedies, these are (three): Cupping, drinking of honey and cauterisation with the help of fire. Allah's Messenger (may peace be upon him) had said: As for myself I do not like cauterisation. The cupper was called and he cupped him and he was all right.

Permalink

See the full chapter: ہر بیماری کے لئے دوا ہے اور علاج کرنے کے استحباب کے بیان میں