Sunan Abu Dawood — Hadith 1842
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مِسْکِينٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَی امْرَأَةً مُجِحًّا فَقَالَ لَعَلَّ صَاحِبَهَا أَلَمَّ بِهَا قَالُوا نَعَمْ فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ کَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ وَکَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ
نفیلی، مسکین، شعبہ، یزید بن خمیر، عبدالرحمن، بن جبیر، بن نفیر، حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ میں ایک عورت کو دیکھا جو پورے دنوں کی حاملہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شاید اس کے مالک نے اس سے جماع کیا ہے لوگوں نے کہا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرا دل چاہا اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر تک اس کے ساتھ جائے بھلا اس کا بچہ اس کا کیسے وارث بن سکتا ہے اور اس کے لیے وہ میراث کیسے حلال ہو سکتی ہے؟ اور وہ اس سے کیسے خدمت لے سکتا ہے جبکہ اس سے خدمت لینا جائز نہیں
-