TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1850 · Discussion on Marriage

Sunan Abu DawoodHadith 1850

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ الْيَهُودَ کَانَتْ إِذَا حَاضَتْ مِنْهُمْ امْرَأَةٌ أَخْرَجُوهَا مِنْ الْبَيْتِ وَلَمْ يُؤَاکِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَی وَيَسْأَلُونَکَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِي الْمَحِيضِ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَاصْنَعُوا کُلَّ شَيْئٍ غَيْرَ النِّکَاحِ فَقَالَتْ الْيَهُودُ مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ فَجَائَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ کَذَا وَکَذَا أَفَلَا نَنْکِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا

موسی بن اسماعیل، حماد، ثابت بنانی، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو حیض آتا ہے تو وہ اس کو گھر سے باہر کر دیتے نہ اس کو اپنے ساتھ کھلاتے پلاتے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں رہتے لوگوں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترجمہ) لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو بتا دیجئے کہ حیض ایک طرح کی گندگی ہے لہذا زمانہ حیض میں عورتوں سے الگ رہو (جماع نہ کرو) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو اپنے ساتھ گھروں میں رکھو اور سب کام کرو سوائے جماع کے پس یہودی کہنے لگے یہ شخص (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ہماری مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا (یہ سن کر) اسید بن حیضہ اوع عباد بن بشر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ یہودی ایسا ایسا کرتے ہیں تو (پھر ہم بھی ان کی مخالفت میں) حیض کی حالت میں عورتوں سے جماع کیوں نہ کیا کریں؟ یہ سن کر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا یہاں تک کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اب دونوں کی بات پر غصہ آیا ہے وہ دونوں وہاں سے نکل گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کہیں سے دودھ کا ہدیہ آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو بلا بھیجا (تاکہ ان کو پلائیں) تب ہم سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ ان پر نہیں تھا (بلکہ یہود پر تھا جو حکم الہی کو اپنی مخالفت سمجھ رہے تھے)

-

Permalink

See the full chapter: حائضہ عورت سے مباشرت کا بیان