TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1878 · Statement on Divorce

Sunan Abu DawoodHadith 1878

Narrated by Abdullah ibn Abbas

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّهُ رَادُّهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَنْطَلِقُ أَحَدُکُمْ فَيَرْکَبُ الْحُمُوقَةَ ثُمَّ يَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَإِنَّ اللَّهَ قَالَ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَإِنَّکَ لَمْ تَتَّقِ اللَّهَ فَلَمْ أَجِدْ لَکَ مَخْرَجًا عَصَيْتَ رَبَّکَ وَبَانَتْ مِنْکَ امْرَأَتُکَ وَإِنَّ اللَّهَ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَائَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ وَغَيْرُهُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَيُّوبُ وَابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ کُلُّهُمْ قَالُوا فِي الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ أَنَّهُ أَجَازَهَا قَالَ وَبَانَتْ مِنْکَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَثِيرٍ قَالَ أَبُو دَاوُد وَرَوَی حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا بِفَمٍ وَاحِدٍ فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَرَوَاهُ إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِکْرِمَةَ هَذَا قَوْلُهُ لَمْ يَذْکُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ وَجَعَلَهُ قَوْلَ عِکْرِمَةَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَصَارَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا

حمید بن مسعدہ، اسماعیل، ایوب عبداللہ بن کثیر، مجاہد، حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن عباس کے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں۔ عبداللہ بن عباس یہ سن کر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو رجعت کا حکم دیں گے مگر پھر آپ نے کہا کہ تم میں سے ایک شخص کھڑا ہوتا ہے اور حماقت پر سوار ہو جاتا ہے پھر نادم ہوتا ہے اور کہتا ہے۔ اے ابن عباس۔ اے ابن عباس (کوئی خلاصی کی تد بیر بتاؤ) حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے (مشکل سے نکلنے کے لیے) کوئی نہ کوئی سبیل پیدا فرمائے گا جبکہ تو نے خوف خدا کو ملحوظ نہیں رکھا پس میں تیرے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں پاتا۔ تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی (یعنی ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دیے ڈالیں) اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی جب تم عورتوں کو طلاق دو تو عدت (یعنی طہر) کے آغاز میں دو ابوداؤد کہتے ہیں کہ اس روایت کو حمید اعرج و غیرہ نے بسند مجاہد حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ اسی طرح شعبہ نے بواسطہ عمرو بن مرہ بسند سعید بن جبیر حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور روایت کیا ہے اس کو ایوب اور ابن جریج نے بواسطہ عکرمہ بن خالد بسند سعید بن جبیر اور روایت کیا ہے اس کو ابن جریج نے بواسطہ عبدالحمید بن رافع بسند عطاء اور روایت کیا اس کو اعمش نے بواسطہ مالک بن حارث۔ اور اسی طرح روایت کیا اس کو ابن جریج نے بواسطہ عمرو بن دینار حضرت ابن عباس سے سب ہی نے اس میں تین طلاق کا ذکر کیا اور کہا کہ ابن عباس نے اس کو جانے دیا (یعنی طلاق ثلاثہ کو ایک قرار نہیں دیا) اور فرمایا کہ تو نے اپنی بیوی کو جدا کر دیا۔ اور ایسے ہی اسماعیل کی حدیث ہے بواسطہ ایوب بسند عبداللہ بن کثیر ابوداؤد نے کہا کہ حماد بن زید نے بواسطہ ایوب بسند عکرمہ حضرت ابن عباس سے روایت کیا۔ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک منہ سے کہے انت طالق ثلثا (یعنی ایک ہی دفعہ کہہ دے کہ میں نے تھجے تین طلاق دی) تو وہ ایک ہی شمار ہوگی اور یہی قول اسماعیل بن ابرایہم نے بسند ایوب بواسطہ عکرمہ روایت کیا ہے کہ یہ عکرمہ کا قول ہے لیکن اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں ہے ابوداؤد نے کہا کہ ابن عباس کا قول اصلی حدیث میں ہے

Narrated Abdullah ibn Abbas: Divorced women shall wait concerning themselves for three monthly periods. Nor is it lawful for them to hide what Allah hath created in their wombs. This means that if a man divorced his wife he had the right to take her back in marriage though he had divorced her by three pronouncements. This was then repealed (by a Qur'anic verse). Divorce is only permissible twice.

Permalink

See the full chapter: ہنسی مذاق میں طلاق دینا