Sunan Abu Dawood — Hadith 1904
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مُغِيثًا کَانَ عَبْدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْفَعْ لِي إِلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بَرِيرَةُ اتَّقِي اللَّهَ فَإِنَّهُ زَوْجُکِ وَأَبُو وَلَدِکِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْمُرُنِي بِذَلِکَ قَالَ لَا إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ فَکَانَ دُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَی خَدِّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَبُغْضِهَا إِيَّاهُ
موسی بن اسماعیل، حماد، خالد، عکرمہ، حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ (بریرہ کا شوہر) مغیث ایک غلام تھا (بریرہ آزاد ہوئی تو اس کو فسخ نکاح کا اختیار مل گیا لہذا) اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بریرہ سے اس کے لیے سفارش فرمائیں (کہ وہ اس کو نہ چھوڑے اور حسب سابق اس کے نکاح میں رہے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بریرہ سے کہا کہ اے بریرہ اللہ سے ڈرو وہ تیرا شوہر ہے اور تیرے بچہ کا باپ ہے وہ بولی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا یہ میرے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں میں تو سفارش کر رہا ہوں اور صدمہ کی بنا پر مغیث کی گا لوں پر آنسوؤں کی لڑی بہی رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس سے فرمایا کیا تمھیں مغیث کی محبت اور بریرہ کی عداوت پر تعجب نہیں ہو رہا ہے؟
-