TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1956 · Statement on Divorce

Sunan Abu DawoodHadith 1956

قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا أَفَنَكْحَلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ كَانَتْ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَائِرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ أَبُو دَاوُد الْحِفْشُ بَيْتٌ صَغِيرٌ

زینب بن ابی سلمہ فرما تی ہیں کہ میں حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ (زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئی جب ان کے بھائی ( عبیداللہ بن جحش) کا انتقال ہوا۔ پس انھوں نے ایک خوشبوں منگائی اور اس کو لگایا۔ پھر فرمایا بخدا مجھے خوشبوں کی ضرورت نہ تھی مگر میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے کہ جو عورت اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے لیکن اپنے شوہر کی وفات پر چار مہینے اور دس دن تک سوگ منائے۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے زینب بنت ابی سلمہ سے پوچھا کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کا مطلب کیا ہے کہ وہ سال کے پورا ہونے پر مینگنی پھنیکتی تھی؟ زینب نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو وہ ایک کوٹھری میں گھس جاتی اور پھٹے پر انے کپڑے پہنتی اور زیب و زینت کے لیے نہ کو یہ خوشبو لگا سکتی اور نہ کوئی اور چیز یہاں تک کہ ایک سال گزر جاتا جب ایک سال پورا ہو جاتا تو اس کے پس ایک جانور گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ لایا جاتا اس سے وہ اپنے بدن کو رگڑتی اور ایسا کم ہی ہوتا کہ وہ پرندہ جس سے جسم رگڑا جاتا وہ زندہ بچ جاتا ہو (بلکہ اکثر مر جاتا تھا) پھر وہ باہر نکلتی اور اس کو ایک مینگنی دی جاتی جس کو وہ پھینکتی اسکے بعد وہ عدت سے نکلتی پھر جو چاہتی خوشبو وغیرہ لگاتی ابوداؤد کہتے ہیں کہ حفش سے مراد چھوٹا کمرہ ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: شوہر کی وفات کے بعد عورت اس کے گھر میں عدت گزارے