Sunan Abu Dawood — Hadith 2051
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمَدَنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ يَذْکُرُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي صَاحِبُ ظَهْرٍ أُعَالِجُهُ أُسَافِرُ عَلَيْهِ وَأَکْرِيهِ وَإِنَّهُ رُبَّمَا صَادَفَنِي هَذَا الشَّهْرُ يَعْنِي رَمَضَانَ وَأَنَا أَجِدُ الْقُوَّةَ وَأَنَا شَابٌّ وَأَجِدُ بِأَنْ أَصُومَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَخِّرَهُ فَيَکُونُ دَيْنًا أَفَأَصُومُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْظَمُ لِأَجْرِي أَوْ أُفْطِرُ قَالَ أَيُّ ذَلِکَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ
عبداللہ بن محمد، محمد بن عبدالمعین، حضرت حمزہ بن اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جانوروں والا ہوں میں انکو لے جاتا ہوں ان پر سفر کرتا ہوں اور کرایہ دیتا ہوں کبھی دوران سفر رمضان آ جاتا ہے میں جوان ہوں اور مجھ میں قوت ہے کہ روزہ رکھ لیا کروں کیونکہ مجھے اسکے قضاء کرنے سے اسکا رکھنا آسان لگتا ہے اس لیے کہ وہ قرض کی طرح ذہن پر سوار رہتے ہیں تو کیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں اسمیں زیادہ ثواب ہے یا نہ رکھوں؟ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے حمزہ جیسا تیرا جی چاہے ویسا کر
-