Sunan Abu Dawood — Hadith 2086
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ يَوْمُ عَاشُورَائَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ کَانَ هُوَ الْفَرِيضَةُ وَتُرِکَ عَاشُورَائُ فَمَنْ شَائَ صَامَهُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَهُ
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ عاشورہ (دس محرم) وہ دن ہے جس میں زمانہ جاہلیت میں قریش کے لوگ روزہ رکھا کرتے تھے اس زمانہ میں آپ بھی روزہ رکھتے تھے۔ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے اس دن روزہ رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو رمضان کے روزے تو فرض رہے اور عاشورہ کا روزہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوڑ دیا۔ اب اختیار ہے جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
-