TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 2722 · Explanation of Funerals

Sunan Abu DawoodHadith 2722

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ عَبْدَةَ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ الْمَعْنَی عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ وَهِلَ تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ إِنَّمَا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی قَبْرٍ فَقَالَ إِنَّ صَاحِبَ هَذَا لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْکُونَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَرَأَتْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَی قَالَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَلَی قَبْرِ يَهُودِيٍّ

ہناد بن سری، عبدہ، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عمر کی اس حدیث کا ذکر حضرت عائشہ کے سامنے ہوا تو انھوں نے فرمایا ابن عمر بھول گئے ان سے بیان کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا اس قبر والے کو (اس کے کفر کے سبب) عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رونے پیٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ حضرت عائشہ نے اپنے قول کے استدلال میں قرآن کی یہ آیت پڑھی۔ (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) 35۔ الفاطر : 18) یعنی نہیں اٹھائے گی کوئی جان دوسرے کا بوجھ۔ ابومعاویہ سے روایت ہے کہ یہ قبر ایک یہودی کی تھی۔

-

Permalink

See the full chapter: نوحہ کرنے کا بیان