TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 333 · Discussion on Salah

Sunan Abu DawoodHadith 333

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ کَانَ قَاعِدًا عَلَی الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ فَقَالَ عُرْوَةُ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نَزَلَ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَائُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنْ الصَّلَاةِ فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعِشَائَ حِينَ يَسْوَدُّ الْأُفُقُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّی يَجْتَمِعَ النَّاسُ وَصَلَّی الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ ثُمَّ صَلَّی مَرَّةً أُخْرَی فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ کَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدَ ذَلِکَ التَّغْلِيسَ حَتَّی مَاتَ وَلَمْ يَعُدْ إِلَی أَنْ يُسْفِرَ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ مَعْمَرٌ وَمَالِکٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُهُمْ لَمْ يَذْکُرُوا الْوَقْتَ الَّذِي صَلَّی فِيهِ وَلَمْ يُفَسِّرُوهُ وَکَذَلِکَ أَيْضًا رَوَی هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ عُرْوَةَ نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْمَرٍ وَأَصْحَابِهِ إِلَّا أَنَّ حَبِيبًا لَمْ يَذْکُرْ بَشِيرًا وَرَوَی وَهْبُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الْمَغْرِبِ قَالَ ثُمَّ جَائَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ يَعْنِي مِنْ الْغَدِ وَقْتًا وَاحِدًا وَکَذَلِکَ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ صَلَّی بِيَ الْمَغْرِبَ يَعْنِي مِنْ الْغَدِ وَقْتًا وَاحِدًا وَکَذَلِکَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ حَدِيثِ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن سلمہ، ابن وہب، اسامہ بن زید، ابن شہاب، عمرو بن عبدالعزیز، حضرت ابن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز مسجد میں منبر پر بیٹھے ہوئے تھے عصر کی نماز میں قدرے تاخیر ہوگئی تو حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے اوقات سے باخبر کر دیا تھا؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ سوچ سمجھ کر بولو حضرت عروہ رضی اللہ عنہ جواب میں کہا کہ میں نے بشیر بن ابی مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اور انکا بیان ہے کہ میں نے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور مجھے نمازوں کے اوقات سے باخبر کیا میں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی، پھر پڑھی، پھر پڑھی، پھر پڑھی، اور پھر پڑھی اس طرح آپ نے اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کو شمار کیا پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورج ڈھلتے ہی ظہر کی نماز پڑھی اور گرمی کی شدت کے وقت تاخیر کے ساتھ پڑھی اور عصر کی نماز پڑھی اس حال میں کہ سورج بلند اور سفید تھا زردی بالکل نہ تھی اور آدمی نماز سے فارغ ہو کر سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ میں پہنچ جاتا (جو مدینہ سے تقریبا ً چھ میل کے فاصلے پر ہے) (اور میں نے دیکھا کہ) آپ سورج غروب ہوتے ہی مغرب کی نماز ادا فرماتے اور جب آسمان کے کناروں سیاہی چھا جاتی تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز پڑھتے اور جبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے جمع ہونے کی خاطر عشاء کی نماز میں تاخیر کرتے تھے اور فجر کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ اندھیرے میں پڑھی اور ایک مرتبہ روشنی میں اس کے بعد ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر اندھیرے پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روشنی نہیں پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اس حدیث کو زہری سے معمر، مالک، ابن عیینہ، شعیب بن حمزہ اور لیث بن سعد وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس وقت کو ذکر نہیں کیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور نہ ہی انہوں نے اسکی تفسیر کی اسی طریقہ سے ہشام بن عروہ اور حبیب بن ابی مرزوق نے عروہ سے روایت کیا ہے جس طرح معمر نے اور انکے اصحاب نے روایت کیا ہے مگر حبیب نے بشیر کو ذکر نہیں کیا ابوداؤد کہتے ہیں کہ وہب بن کیسان نے بواسطہ جابر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وقتِ مغرب ذکر کیا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام دوسرے کے دن مغرب کے لیے سورج غروب ہونے کے بعد آئے یعنی دونوں دن ایک ہی وقت میں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسی طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر جبرائیل علیہ السلام نے دوسرے دن بھی مغرب کی نماز اسی وقت میں پڑھائی۔ اسی طرح عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی جانب سے حسان بن عطیہ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی گئی ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: نماز کے اوقات کا بیان