TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 334 · Discussion on Salah

Sunan Abu DawoodHadith 334

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِي مُوسَی أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا حَتَّی أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّی حِينَ کَانَ الرَّجُلُ لَا يَعْرِفُ وَجْهَ صَاحِبِهِ أَوْ أَنَّ الرَّجُلَ لَا يَعْرِفُ مَنْ إِلَی جَنْبِهِ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ حَتَّی قَالَ الْقَائِلُ انْتَصَفَ النَّهَارُ وَهُوَ أَعْلَمُ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَائُ مُرْتَفِعَةٌ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الْعِشَائَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ صَلَّی الْفَجْرَ وَانْصَرَفَ فَقُلْنَا أَطَلَعَتْ الشَّمْسُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ فِي وَقْتِ الْعَصْرِ الَّذِي کَانَ قَبْلَهُ وَصَلَّی الْعَصْرَ وَقَدْ اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ أَوْ قَالَ أَمْسَی وَصَلَّی الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّی الْعِشَائَ إِلَی ثُلُثِ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَی سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ هَذَا قَالَ ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ قَالَ بَعْضُهُمْ إِلَی ثُلُثِ اللَّيْلِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِلَی شَطْرِهِ وَکَذَلِکَ رَوَی ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

مسدد، عبداللہ بن داؤد، بدر بن عثمان، ابوبکر بن ابی موسی، حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اوقات نماز کے متعلق سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (زبانی) جواب نہیں دیا بلکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا پھر طلوع صبح صادق کے وقت فجر کی نماز پڑھی جبکہ کوئی ایک دوسرے کا چہرہ نہ پہچان سکتا تھا یا جو شخص اپنے پہلو میں ہوتا اسکو نہ پہچان سکتا پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم کیا اور انہوں نے ظہر کو قائم کیا جبکہ سورج ڈھل چکا تھا یہاں تک کہ کہنے والے نے کہا کیا دوپہر ہو گئی؟ اور آپ خوب جانتے تھے پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم کیا اور انہوں نے عصر کو قائم کیا جبکہ سورج بلند اور روشن تھا پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا اور انہوں نے مغرب کو قائم کیا جب کہ سورج غروب ہوا پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا اور انہوں نے عشاء کو قائم کیا جبکہ شفق کا نشان غروب ہو چکا تھا پھر جب دوسرا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھی اور فراغت کے بعد ہم لوگ کہنے لگے کہ کیا سورج نکل آیا؟ اور ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب جس وقت پہلے روز عصر کی نماز پڑھی تھی اور عصر کی نماز اسوقت پڑھی جبکہ سورج زرد ہو گیا تھا یا شام ہوگئی تھی اور مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی اور عشاء کی نماز تہائی رات میں پڑھائی پھر فرمایا کہاں ہے اوقات نماز کے متعلق دریافت کرنے والا؟ جان لو وقت مستحب ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ سلیمان بن موسیٰ نے بواسطہ عطاء عن جابر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مغرب کے متعلق اسی طرح روایت کیا ہے اسمیں یہ ہے کہ پھر آپ نے عشاء کی نماز پڑھی بعض نے کہا تہائی رات میں اور بعض نے کہا کہ آدھی رات میں اسی طرح ابن بریدہ بواسطہ بریدہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: نماز کے اوقات کا بیان