TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 3917 · Explanation of Diyah (Blood Compensation)

Sunan Abu DawoodHadith 3917

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَعْنَی قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ انْطَلَقَا قِبَلَ خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ فَجَائَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَکَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْکُبْرَ الْکُبْرَ أَوْ قَالَ لِيَبْدَأْ الْأَکْبَرُ فَتَکَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ قَالُوا أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ کَيْفَ نَحْلِفُ قَالَ فَتُبَرِّئُکُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ کُفَّارٌ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ قَالَ سَهْلٌ دَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا فَرَکَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْکَ الْإِبِلِ رَکْضَةً بِرِجْلِهَا قَالَ حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَمَالِکٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ فِيهِ أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِکُمْ أَوْ قَاتِلِکُمْ وَلَمْ يَذْکُرْ بِشْرٌ دَمًا و قَالَ عَبْدَةُ عَنْ يَحْيَی کَمَا قَالَ حَمَّادٌ وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی فَبَدَأَ بِقَوْلِهِ تُبَرِّئُکُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا يَحْلِفُونَ وَلَمْ يَذْکُرْ الِاسْتِحْقَاقَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ

عبیداللہ بن عمر بن میسرہ، محمد بن عبید معنی، حماد بن زید، یحیی بن سعید، بشیر بن یسار، حضرت سہل بن ابوحثمہ اور حضرت رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ حضرت محیصہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن سہل خیبر کی طرف چلے پس وہ کسی نخلستان میں جدا ہو گئے تو عبداللہ بن سہل کو قتل کردیا گیا تو ان کے قبیلہ کے افراد نے یہودیوں پر تہمت لگائی ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ان کے چچا زاد بھائی حویصہ بن مسعود اور محیصہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عبدالرحمن بن سہل نے جو ان سب سے چھوٹے تھے اپنے بھائی کے بارے میں گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے کو اس کی بڑائی کا حق دو۔ یا فرمایا کہ چاہیے کہ بڑے کلام کی ابتداء کرے۔ تو ان دونوں نے اپنے ساتھی عبداللہ بن سہیل کے بارے میں گفتگو کی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم پچاس افراد یہود کے کسی آدمی پر جس کے بارے میں گمان ہو کہ اس نے قتل کیا ہے قسم کھائیں۔ پھر اپنا قیدی تمہارے حوالے کردیں (یعنی قاتل) وہ کہنے لگے کہ ایسے معاملہ پر جسے ہم نے دیکھا نہیں کیسے قسم کھا لیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ پھر یہود اپنے میں سے پچاس افراد سے قسمیں اٹھوائیں گے اور اپنے کو چھڑا لیں گے تم سے وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ وہ تو کافر قوم ہیں (ان کی قسموں کا کیسے اعتبار کرلیں) راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جانب سے انہیں فدیہ دیا۔ سہل کہتے ہیں کہ ایک دن میں ان کے اونٹوں کے باڑے میں داخل ہوا تو اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے اپنی ٹانگ ماردی۔ حماد نے بھی یہ اس جیسی روایت بیان کی ہے۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو بشر بن المفضل اور مالک نے یحیی بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم پچاس قسمیں کھانے کے لیے تیار ہو اور تم اپنے ساتھی کے خون کے بارے میں یا اپنے قاتل کے مستحق ہوجاؤ گے (یعنی قصاص کے) بشرنے اپنی روایت میں دم کا ذکر نہیں کیا بلکہ بشر کے علاوہ دوسرے راویوں نے یحیی سے حماد کی طرح روایت کی ہے۔ ابن عینیہ نے یحیی سے اس کو روایت کیا ہے تو اپنے اس قول سے ابتداء کی کہ یہود پچاس قسمیں کھا کرتم سے اپنا آپ چھڑا لیں گے اور انہوں نے استحقاق کا ذکر نہیں کیا امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ یہ ابن عینیہ کا وہم ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: قسامت کا بیان