TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 3920 · Explanation of Diyah (Blood Compensation)

Sunan Abu DawoodHadith 3920

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَی خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا فَقَالُوا مَا قَتَلْنَاهُ وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا فَانْطَلَقْنَا إِلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُمْ تَأْتُونِي بِالْبَيِّنَةِ عَلَی مَنْ قَتَلَ هَذَا قَالُوا مَا لَنَا بَيِّنَةٌ قَالَ فَيَحْلِفُونَ لَکُمْ قَالُوا لَا نَرْضَی بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ فَکَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ

حسن بن محمد بن صباح زعفرانی، ابونعیم، سعید عبید طائی، بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ غالبا انصار کے ایک شخص جنہیں سہل بن ابی حثمہ کہا جاتا تھا انہیں بتلایا کہ ان کی قوم کے چند لوگ خیبر کی طرف چلے راستہ میں سب متفرق ہوگئے پھر انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو انہوں نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہم اس کے قاتلوں کو جانتے ہیں سہل بن ابی حثمہ کہتے ہیں کہ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ تم گواہ لاؤ قاتل پر۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تو گواہ نہیں ہے قاتل پر۔ آپ نے فرمایا کہ پھر یہود تمہارے لیے قسم اٹھائیں گے انہوں نے کہا کہ ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ عبداللہ بن سہل کے خون کو باطل اور ضائع کردیں تو آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ دے کر ان کی دیت ادا کردی۔

-

Permalink

See the full chapter: قسامت میں قصاص ترک کردیا جائے گا