Sunan Abu Dawood — Hadith 3964
Narrated by Buraydah ibn al-Hasib
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً خَذَفَتْ امْرَأَةً فَأَسْقَطَتْ فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ فِي وَلَدِهَا خَمْسَ مِائَةِ شَاةٍ وَنَهَی يَوْمَئِذٍ عَنْ الْخَذْفِ قَالَ أَبُو دَاوُد کَذَا الْحَدِيثُ خَمْسَ مِائَةِ شَاةٍ وَالصَّوَابُ مِائَةُ شَاةٍ قَالَ أَبُو دَاوُد هَکَذَا قَالَ عَبَّاسٌ وَهُوَ وَهْمٌ
عباس بن عبدالعظیم، عبید اللہ، یوسف بن صہب، حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد حضرت برید سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے دوسری کو پتھر مارا جس سے اس کا حمل گرگیا یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لیا جایا گیا تو آپ نے عورت کے بچہ میں 11 بکریاں مقرر کیں اور اس دن سے آئندہ کے لیے لوگوں کو آپس میں پتھر مارنے سے منع فرمایا امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ روایت تو 11 بکریوں ہی کی ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ سو بکریاں مقرر کیں۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: A woman threw a stone at another woman and she aborted. The dispute was brought to the Apostle of Allah (peace_be_upon_him). He gave judgment that five hundred sheep should be paid for her (unborn) child, and forbade throwing stones.