Sunan An-Nasa'i — Hadith 2436
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَی الْأَشْيَبُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَکَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ أَنَا مَالُکَ أَنَا کَنْزُکَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمْ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ الْآيَةَ
فضل بن سہل، حسن ابن موسیٰ الاشیب، عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار مدنی، وہ اپنے والد سے، ابوصالح، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا خداوند قدوس جس کو دولت عطا فرمائے پھر وہ شخص اس کی زکوة ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس شخص کی دولت ایک گنجا سانپ بن کر آئے گی اور اس کی آنکھ پر دو نقطے ہوں گے۔ وہ ان کی بانچھیں پکڑ کر کہے گا میں تیری دولت ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت تلاوت فرمائی۔ یعنی کنجوس لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے واسطے بخل ایک اچھی چیز ہے بلکہ وہ تو بہت بری چیز ہے اور قیامت کے دن جس دولت سے یہ لوگ کنجوسی کیا کرتے تھے تو ان کے واسطے ہی وہ ہی دولت گلے کا ہار ہوگی اور باعث عذاب ہوگی۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet * said: “If Allah gives a person wealth and he does not pay Zakah on it, his wealth will appear to him on the Day of Resurrection as a bald- headed Shuja’a with two dots above its eyes. It will take hold of the corners of his mouth on the Day of Resurrection and will say: ‘I am your wealth, I am your hoarded treasure.’ Then he recited this verse: ‘And let not those who covetously withhold of that which Allah has bestowed on them of His Bounty (wealth) and think that it is good for them (and so they do not pay the obligatory Zakah).” (Sahih)