Sunan An-Nasa'i — Hadith 2671
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ کُنْتُ أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ فَکُنْتُ حَرِيصًا عَلَی الْجِهَادِ فَوَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَکْتُوبَيْنِ عَلَيَّ فَأَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ عَشِيرَتِي يُقَالُ لَهُ هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ اجْمَعْهُمَا ثُمَّ اذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ فَأَهْلَلْتُ بِهِمَا فَلَمَّا أَتَيْتُ الْعُذَيْبَ لَقِيَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ مَا هَذَا بِأَفْقَهَ مِنْ بَعِيرِهِ فَأَتَيْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَأَنَا حَرِيصٌ عَلَی الْجِهَادِ وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَکْتُوبَيْنِ عَلَيَّ فَأَتَيْتُ هُرَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ يَا هَنَاهْ إِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَکْتُوبَيْنِ عَلَيَّ فَقَالَ اجْمَعْهُمَا ثُمَّ اذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ فَأَهْلَلْتُ بِهِمَا فَلَمَّا أَتَيْنَا الْعُذَيْبَ لَقِيَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ مَا هَذَا بِأَفْقَهَ مِنْ بَعِيرِهِ فَقَالَ عُمَرُ هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّکَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابووائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں الصبی بن معبد کا بیان ہے کہ میں ایک عیسائی اعرابی تھا جس وقت میں نے اسلام قبول کیا تو جہاد کی بڑی خواہش اور تمنا تھی۔ لیکن مجھ کو علم ہوا کہ میرے ذمہ حج اور عمرہ دونوں واجب ہیں تو میں اپنے خاندان کے ایک شخص کے پاس پہنچا۔ اس کا نام ہدیم بن عبداللہ تھا۔ میں نے اس شخص سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ دونوں (حج اور عمرہ) تم ساتھ ساتھ ہی ادا کرلو اور پھر آسانی اور سہولت کے ساتھ جو تم قربانی کر سکو وہ کرو اس بات پر میں نے دونوں (یعنی حج اور عمرہ) کی نیت کر لی۔ بہرحال جس وقت میں (مقام) عذیب پہنچا تو میری ملاقات سلمان بن ربعیہ اور حضرت زید بن صرحان سے ہوئی اس وقت یہ حج اور عمرہ دونوں کے واسطے لبیک کہہ رہا تھا (یعنی حج اور عمرہ میں مشغول تھا) اس بات پر ان سے ایک نے دوسرے سے کہا یہ شخص اپنے اونٹ سے زیادہ عقل و شعور نہیں رکھتا ہے پھر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا یا امیرالمومنین! میں نے اسلام قبول کر لیا اور میرے دل میں جہاد کی تمنا ہے چونکہ میرے ذمہ حج اور عمرہ دونوں لازم ہیں اس واسطے میں ہدیم بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے دریافت کیا تو وہ فرمانے لگے کہ دونوں ایک ساتھ ہی ادا کرلو اور پھر (اگر قربانی کا جانور مل جائے تو) قربانی کرو۔ بہرحال جس وقت میں مقام عذیب پہنچ گیا تو مجھ سلمان بن ربعیہ اور حضرت زید بن صرحان مل گئے اور دونوں ایک دوسرے سے کہنے لگے یہ شخص تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ عقل و شعور نہیں رکھتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت بتلا دی گئی ہے (یعنی سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تم کو مطلع کر دیا گیا ہے)
It was narrated that Abu Wa’jl said: “As-SubaI bin Ma’bad said: ‘I was a Christian Bedouin, then I became Muslim. I was keen to go for Jihad but I learned that ffajj and “Umra/’z had been enjoined on me. I went to a man of my clan who was called Huraim bin ‘Abdullah and asked him, and he said: “Put them together, then slaughter whatever you can of the HadI.” So I entered Ihram for both together, and when I came to Al ‘Udhaib, I was met by Salman bin Rabi’ah and Zaid bin Suban, while I was uttering the Talbiyah for both. One of them said to the other: “He does not understand more than his camel!” I came to ‘Umar and said: “Commander of the Belivers! I have become Muslim and I am keen to go for Jihad, but I learned that Hajj and “Umrah were enjoined on me, so I went to Huraim bin ‘Abdullah and said: ‘Hey you! I have learned that Hajj and “Umrah have been enjoined on me.’ He said: ‘Put them together then slaughter whatever you can of the HadI.’ So I entered Ihram for both together, and when I came to Al-’Udhaib I was met by Salman bin Rabi’ah and Zaid bin Suhan, and one of them said to the other: ‘He does not understand more than his camel.” ‘Umar said: “You have been guided to the Sunnah of your Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.” (Sahih)