TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 3397 · Hadiths Related to Divorce

Sunan An-Nasa'iHadith 3397

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَاتَبَتْ بَرِيرَةُ عَلَی نَفْسِهَا بِتِسْعِ أَوَاقٍ فِي کُلِّ سَنَةٍ بِأُوقِيَّةٍ فَأَتَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فَقَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَشَائُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَکُونُ الْوَلَائُ لِي فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ فَکَلَّمَتْ فِي ذَلِکَ أَهْلَهَا فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلَّا أَنْ يَکُونَ الْوَلَائُ لَهُمْ فَجَائَتْ إِلَی عَائِشَةَ وَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِکَ فَقَالَتْ لَهَا مَا قَالَ أَهْلُهَا فَقَالَتْ لَا هَا اللَّهِ إِذًا إِلَّا أَنْ يَکُونَ الْوَلَائُ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْنِي تَسْتَعِينُ بِي عَلَی کِتَابَتِهَا فَقُلْتُ لَا إِلَّا أَنْ يَشَائُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَکُونُ الْوَلَائُ لِي فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلَّا أَنْ يَکُونَ الْوَلَائُ لَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمْ الْوَلَائَ فَإِنَّ الْوَلَائَ لِمَنْ أَعْتَقَ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُونَ أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَائُ لِي کِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَکُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَةَ شَرْطٍ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا وَکَانَ عَبْدًا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا قَالَ عُرْوَةُ فَلَوْ کَانَ حُرًّا مَا خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، ہشام بن عروہ، ابیہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے آپ کو مبلغ نو اوقیہ پر مکاتب بنایا اور ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا مقرر ہوا۔ اس کے بعد حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا میرے پاس پہنچیں (یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس) حاضر ہو کر عرض کیا اور ان سے اپنے بدل کتابت میں مدد طلب کی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں اس طریقہ سے تو مدد نہیں کرتی ہوں لیکن اگر وہ لوگ چاہیں تو میں ایک ہی مرتبہ رقم شمار کر کے ادا کر دوں اور ولاء میرا حق ہوگا اس کے بعد حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے لوگوں کے پاس پہنچ گئیں اور انہوں نے ان سے گفتگو کی۔ ان لوگوں نے اس سلسلہ میں کچھ نہیں مانا اور کہا کہ اس کی ولاء ہم ہی وصول کریں گے۔ تو پھر حضرت بریرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے پھر حضرت بریرہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے آکر کہا جو کچھ کہ ان لوگوں نے کہا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس پر فرمایا کہ ایسا ہے تو خدا کی قسم میں مدد نہیں کرتی لیکن ولاء اگر میرا حق ٹھہرے گا تو تمہاری مدد کروں گی۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا کس بات کا تذکرہ ہے۔ یہ بیوی حضرت عائشہ صدیقہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حضرت بریرہ حاضر ہوئی تھیں اور وہ میرے پاس اپنے بدل کتابت میں مدد طلب کرنے کے لیے آئی تھیں۔ میں نے تو ان سے کہہ دیا کہ میں اس طریقہ سے تو مدد نہیں کرتی ہوں لیکن اگر وہ چاہیں تو ایک ہی مرتبہ تمام بدل کتابت میں ادا کر سکتی ہوں لیکن ولاء میرے واسطے ہوگی یہ بات حضرت بریرہ نے ان سے کہی انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ ولاء ہم لیں گے اور ایک دوسرے کی امداد کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ صدیقہ تم اس کو خرید لو اور ان سے شرط مقرر کرلو ولاء کی اور شرط کرنے سے ان کے ساتھ کس قسم کا کوئی حرج نہیں ہوگا اس لیے کہ ولاء حق آزاد کرنے والے کا ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طریقہ سے فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے واسطے کھڑے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمد باری تعالیٰ پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں کو کیا ہوا کہ اس قسم کی شرط باندھ لیتے ہیں جو کہ ان کو خداوند قدوس کی کتاب میں اور کہتے ہیں ولاء ہم لیں گے کتاب اللہ عزت اور بزرگی والے کی بہت ٹھیک ہے اور حق ہے اور جو شرائط خداوند قدوس نے قائم فرمائی ہیں اور مقرر فرمائیں وہ ہی مضبوط اور قابل اعتماد ہیں وہ شرط باطل ہے اور بے اصل ہے اس کا ادا کرنا کچھ لازم نہیں ہے اگرچہ وہ شرائط کیسی ہی کیوں نہ ہوں پھر اختیار دیا۔

It was narrated from Aishah that she wanted to buy BarIrah, but her masters stipulated that her Wala’ should go to them. She mentioned that to the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and he said: “Buy her and set her free, for Al-Wala’ is to the one who sets the slave free.” Some meat was brought and it was said: “This is some of that which was given in charity to BarIrah.” He said: “It is charity for her and a gift for us.” And the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم gave her the choice, and her husband was a free man. (Sahih)

Permalink

See the full chapter: اس مسئلہ سے متعلق کہ جس باندی کا شوہر غلام ہے اور وہ آزاد ہوگئی تو اس کو اختیار ہے