Sunan An-Nasa'i — Hadith 3439
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَةً جَائَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ فَجَائَ زَوْجُهَا وَقَالَ مَنْ يُخَاصِمُنِي فِي ابْنِي فَقَالَ يَا غُلَامُ هَذَا أَبُوکَ وَهَذِهِ أُمُّکَ فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ
محمد بن عبدالاعلی، خالد، ابن جریج، زیاد، حضرت ہلال بن اسامہ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ بیوی حضرت میمونہ نے بیان فرمایا کہ ہم لوگ ایک دن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نقل فرمایا کہ ایک خاتون ایک روز حضرت ابوہریرہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا میرے والدین آپ پر فدا ہو جائیں۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ میرا شوہر میرے بچے کو مجھ سے لینے کا ارادہ کرتا ہے اور اس بچے سے مجھ کو نفع ہے اور وہ مجھ کو قبیلہ ابی عبسہ کے کنویں کا پانی بھی پلاتا ہے اس دوران اس خاتون کا شوہر بھی آ گیا اور کہنے لگا کہ میرے لڑکے کے سلسلہ میں کون شخص جھگڑ رہا ہے؟ آپ نے فرمایا اے بیٹا یہ تیرا والد ہے اور یہ تیری والدہ ہے ان دونوں میں سے جس کا تیرا دل چاہے اس کا ہاتھ تھام لے چنانچہ لڑکے نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا اور اس کو اپنے ساتھ لے گئی۔
It was narrated from ‘Abdul Hamid bin Salamah Al-Ansari, from his father, from his grandfather, that he became Muslim but his wife refused to become Muslim. A young son of theirs, who had not yet reached puberty, came, and the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم seated the father on one side and the mother on the other side, and he gave him the choice. He said: “Allah, guide him,” and (the child) went to his father. (Hasan)