Sunan Darimi — Hadith 230
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى فَقَالَ نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ثُمَّ أَدَّاهَا إِلَى مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَطَاعَةُ ذَوِي الْأَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تَكُونُ مِنْ وَرَائِهِمْ
محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم منی میں خیف کے مقام پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے گا جو ہماری بات سن کر اسے محفوظ کرلے اور اسے پھر دوسرے اس شخص تک پہنچادے جس نے اسے براہ راست نہیں سنا کیونکہ بعض علم والوں کو حقیقی علم نہیں ہوتا اور بعض اوقات ایک علم والا دوسرے ایسے شخص تک علم منتقل کرتا ہے جو زیادہ سمجھدار ہوتا ہے تین باتوں میں مسلمان کا دل دھوکا نہیں دیتا ایک عمل کا اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہونا، دوسرا حاکم وقت کی پیروی کرنا اور تیسرا مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا چونکہ انکی غیر موجوگی میں انکی دعا موجود لوگوں کے لیے بھی ہوتی ہے۔
-