Sunan Darimi — Hadith 302
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ هَرِمِ بْنِ حَيَّانَ أَنَّهُ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالْعَالِمَ الْفَاسِقَ فَبَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ وَأَشْفَقَ مِنْهَا مَا الْعَالِمُ الْفَاسِقُ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ هَرِمٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِهِ إِلَّا الْخَيْرَ يَكُونُ إِمَامٌ يَتَكَلَّمُ بِالْعِلْمِ وَيَعْمَلُ بِالْفِسْقِ فَيُشَبِّهُ عَلَى النَّاسِ فَيَضِلُّوا
ہرم بن حیان بیان کرتے ہیں فاسق عالم سے بچو اس بات کی اطلاع حضرت عمر بن خطاب کو ملی تو حضرت عمر نے انہیں خط میں لکھا فاسق عالم سے مراد کیا ہے ہرم اس بات سے خوفزدہ ہوگئے ہرم نے انہیں جواب میں لکھا اے امیرالمومنین اللہ کی قسم میری مراد صرف نیکی ہی تھی بعض اوقات کوئی ایساحکمران ہوتا ہے جو اپنے علم کے مطابق بات تو کرتا ہے لیکن اس کا عمل گناہ پر ہوتا ہے ایسا شخص لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کردیتا ہے جس کی وجہ سے لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں۔
-