TrueHadith

Sunan Ibn Majah, Hadith 2080 · Statement on Divorce

Sunan Ibn MajahHadith 2080

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلًا أَمَرَهُ أَبُوهُ أَوْ أُمُّهُ شَکَّ شُعْبَةُ أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةَ مُحَرَّرٍ فَأَتَی أَبَا الدَّرْدَائِ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي الضُّحَی وَيُطِيلُهَا وَصَلَّی مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ أَوْفِ بِنَذْرِکَ وَبِرَّ وَالِدَيْکَ وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَحَافِظْ عَلَی وَالِدَيْکَ أَوْ اتْرُکْ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ ، عطاء بن سائب ، حضرت عبدالرحمن سے مروی ہے ایک شخص کو اس کے باپ یا اسکی ماں نے حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے۔ اس شخص نے نذر مانی کہ اس نے اگر طلاق دی تو سو غلام آزاد کریگا۔ پھر وہ ابوالدرداء کے ہاں آیا وہ چاشت کی نماز پڑھتے تھے اور اسکو طویل کرتے تھے اور انہوں نے نماز پڑھی ظہر اور عصر کے درمیان۔ آخر اس شخص نے ابوالدرداء سے پوچھا تو انہوں نے کہا اپنی نذر پوری کر اپنے والدین کی اطاعت کر۔ ابوالدرداء نے کہا میں نے رسول اللہ سے سنا آپ فرماتے تھے ماں باپ بہتر دروازے ہیں جنت جانے کا ۔ اب تیری منشاء والدین کا خیال کر یا نہ کر ۔

It was narrated from 'Abdur-Rahrnan that a man's father or mother - Shu'bah (one of the narrators) was not sure -ordered him to divorce his wife, and he made a vow that he would free one hundred slaves if he did that He came to Abu Darda' while he was praying the Ouha, and he was making his prayer lengthy, and he prayed between Zunr and 'Asr. Then he asked him, and Abu Darda' said: "Fulfill your vow and honor your parents," Abu Ad-Darda' said: "I heard the Messenger of Allah P.B.U.H say: '(Honoring) one's father may lead one to enter through the best of the gates of Paradise; so take care of your parents, (it is so, whether you take care of them) or not" (Hasan)

Permalink

See the full chapter: والد اپنے بیٹے کو حکم دے کہ اپنی بیوی کو طلاق دو توباپ کا حکم ماننا چاہئے ۔