حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا فَجَائَتْ تِلْکَ السَّاعَةُ وَلَمْ يَأْتِهِ وَفِي يَدِهِ عَصًا فَأَلْقَاهَا مِنْ يَدِهِ وَقَالَ مَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَا رُسُلُهُ ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا جِرْوُ کَلْبٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَتَی دَخَلَ هَذَا الْکَلْبُ هَاهُنَا فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ فَجَائَ جِبْرِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتَنِي فَجَلَسْتُ لَکَ فَلَمْ تَأْتِ فَقَالَ مَنَعَنِي الْکَلْبُ الَّذِي کَانَ فِي بَيْتِکَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ کَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ
سوید بن سعید عبدالعرزیز بن ابی حازم ابوسلمہ عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت جبرائیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک وقت میں آنے کا وعدہ کیا جب وہ وقت آیا تو حضرت جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں ایک لکڑی دیکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے وہ لکڑی پھینکی اور فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھر ادھر دیکھا تو تخت کے نیچے ایک کتے کے پلے پر نظر ٹھہری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ یہ کتا یہاں کب داخل ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا اللہ کی قسم میں نہیں جانتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق وہ کتاباہر نکال دیا گیا تو اسی وقت حضرت جبرائیل آگئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور میں آپ کے انتظار میں بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے تو حضرت جبریئل نے فرمایا مجھے اس کتے نے روکا جو آپ علیہ السلام کے گھر میں تھا کیونکہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جس گھر میں کتے اور تصویریں ہوں۔
A'isha reported that Gabriel (peace be upon him) made a promise with Allah's Messenger (may peace be upon him) to come at a definite hour; that hour came but he did not visit him. And there was in his hand (in the hand of Allah's Apostle) a staff. He threw it from his hand and said: Never has Allah or His messengers (angels) ever broken their promise. Then he cast a glance (and by chance) found a puppy under his cot and said: 'A'isha, when did this dog enter here? She said: BY Allah, I don't know He then commanded and it was turned out. Then Gabriel came and Allah's Messenger (may peace be upon him) said to him: You promised me and I waited for you. but you did not come, whereupon he said: It was the dog in your house which prevented me (to come), for we (angels) do not enter a house in which there is a dog or a picture.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ جِبْرِيلَ وَعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَهُ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يُطَوِّلْهُ کَتَطْوِيلِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، مخزومی وہیب ابی حازم اس سند کے ساتھ حضرت ابوحازم سے روایت ہے کہ حضرت جبرائیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک وقت پر آنے کا وعدہ کیا پھر اسی طرح حدیث ذکر کی لیکن اس میں اتنی تفصیل نہیں جتنی کہ پہلی حدیث میں تھی۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hazim with the same chain of transmitters that Gabriel had promised Allah's Messenger (may peace be upon him) that he would come; the rest of the hadith is the same, but it is not so lengthy as the other one.
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ السَّبَّاقِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ اسْتَنْکَرْتُ هَيْئَتَکَ مُنْذُ الْيَوْمِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ جِبْرِيلَ کَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي قَالَ فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِکَ عَلَی ذَلِکَ ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ کَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَائً فَنَضَحَ مَکَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَی لَقِيَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ قَدْ کُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ قَالَ أَجَلْ وَلَکِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ کَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ حَتَّی إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ کَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُکُ کَلْبَ الْحَائِطِ الْکَبِيرِ
حرملہ بن یحیی ابن وہب، یونس ابن شہاب، ابن سباق، ابن عباس، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش خاموش تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں آج صبح ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس میں تبدیلی دیکھ رہی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل نے آج رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ مجھے ملے نہیں اللہ کی قسم انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی پھر سارا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ایک کتے کے بچے کا خیال آیا جو کہ ہمارے بستر کے نیچے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اس کو نکالنے کا حکم فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک میں پانی لے کر اس جگہ پر چھڑک دیا جب شام ہوئی تو حضرت جبرائیل ملاقات کے لئے تشریف لے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل سے فرمایا آپ نے گزشتہ رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا حضرت جبرائیل نے کہا ہاں لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویریں ہوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن صبح کو کتوں کو قتل کرنے کا حکم فرمایا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے باغ کا کتا قتل کرنے کا حکم دے دیا اور بڑے باغ کے کتے کو چھوڑ دیا۔
Maimuna reported that one morning Allah's Messenger (may peace be upon him) was silent with grief. Maimuna said: Allah's Messenger, I find a change in your mood today. Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Gabriel had promised me that he would meet me tonight, but he did not meet me. By Allah, he never broke his promises, and Allah's Messenger (may peace be upon him) spent the day in this sad (mood). Then it occurred to him that there had been a puppy under their cot. He commanded and it was turned out. He then took some water in his hand and sprinkled it at that place. When it was evening Gabriel met him and he said to him: you promised me that you would meet me the previous night. He said: Yes, but we do not enter a house in which there is a dog or a picture. Then on that very morning he commanded the killing of the dogs until he announced that the dog kept for the orchards should also be killed, but he spared the dog meant for the protection of extensive fields (or big gardens).
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ يَحْيَی وَإِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَةُ بَيْتًا فِيهِ کَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ
یحیی بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اسحاق بن ابراہیم، یحیی اسحاق ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس گھر میں کتا اور تصویریں ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
Abu Talha reported Allah's Apostle (may peace be upon him) having said: Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture.
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَةُ بَيْتًا فِيهِ کَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، ابن عباس، حضرت ابوطلحہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس گھر میں کتا یا تصویریں ہوں اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
Abu Talha reported: I heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Angels do not enter the house in which there is a dog or a statue.
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ وَذِکْرِهِ الْأَخْبَارَ فِي الْإِسْنَادِ
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، یونس، حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ یونس کی روایت کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
Abu Talha reported: I heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Angels do not enter the house in which there is a dog or a statue.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَلَائِکَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَکَی زَيْدٌ بَعْدُ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَی بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ قَالَ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنْ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ
قتیبہ بن سعید، لیث، بکیر، بسر بن سعید، زید بن خالد، ابی طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس گھر میں تصویریں ہوں حضرت بسر کہتے ہیں کہ پھر کچھ دنوں بعد حضرت زید بیمار ہوئے تو ہم ان کی عیادت کے لئے گئے تو ہم نے ان کے دروازے پر ایک پردہ پڑا ہوا دیکھا کہ جس میں تصویر تھی بسر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ خولانی سے جو کہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کے زیر پرورش تھے کہا کہ کیا ہمیں خود حضرت زید ہی نے تصویر کے بارے میں خبر نہیں دی تھی تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ کیا تو نے اس وقت یہ نہیں سنا تھا کہ کپڑے کے نقش ونگار اس سے مستثنی ہیں۔
This hadith has been reported on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ وَمَعَ بُسْرٍ عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ قَالَ بُسْرٌ فَمَرِضَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا نَحْنُ فِي بَيْتِهِ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ أَلَمْ يُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِيرِ قَالَ إِنَّهُ قَالَ إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ أَلَمْ تَسْمَعْهُ قُلْتُ لَا قَالَ بَلَی قَدْ ذَکَرَ ذَلِکَ
ابوطاہر ابن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشج، بسر بن سعید، زید بن خالد جہنی، بسر، عبیداللہ خولانی، حضرت ابوطلحہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جس گھر میں تصویر ہو حضرت بسر کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ کے بعد حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے تو ہم ان کی عیادت کے لئے گئے کہ ان کے گھر میں ایک پردہ ہے جس میں تصویریں بنی ہوئی ہیں میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا کیا حضرت زید ہم کو تصویروں والی حدیث نہیں بیان کرتے تھے انہوں نے کہا ہاں انہوں نے بیان کی تھی مگر جب کپڑوں میں نقش ونگار ہوں کیا تو نے یہ نہیں سنا؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے کہا کہ حضرت زید نے اسی طرح کہا تھا۔
Abu Talha, the Companion of Allah's Messenger (may peace be upon him), reported Allah's Messenger (may peace be upon him) having said: Verily, angels do not enter the house in which there is a picture. Busr reported: Zaid fell ill and we went to inquire after his health and (found) that there was hanging at his door a curtain with a picture on it. I said to 'Ubaidullah Khaulani who had been under the patronage of Maimuna, the wife of Allah's Apostle (may peace be upon him): Did not Zaid himself inform us before about (the Holy Prophet's command pertaining to the pictures), whereupon 'Ubaidullah said: Did you not hear when he said:" Except the prints on the cloth"?
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ مَوْلَی بَنِي النَّجَّارِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَةُ بَيْتًا فِيهِ کَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، سہیل بن ابوصالح، سعید بن یسار، ابی حباب، مولی بن نجار، زید بن خلاد، جہنی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جس گھر میں کتے اور تصویریں ہوں۔
Abu Talha reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Angels do not enter a house in which there is a picture. Busr said: Zaid b. Khalid fell sick and we visited him to inquire after his health. As we were in his house (we saw) a curtain having pictures on it. I said to 'Ubaidullah Khaulani: Did he not narrate to us (the Holy Prophet's command pertaining to pictures)? Thereupon he said: He in fact did that (but he also said): Except the prints upon the cloth. Did you not hear this? I said: No, whereupon He said: He had in fact made a mention of this.
قَالَ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَةُ بَيْتًا فِيهِ کَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ ذَلِکَ فَقَالَتْ لَا وَلَکِنْ سَأُحَدِّثُکُمْ مَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ رَأَيْتُهُ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ فَأَخَذْتُ نَمَطًا فَسَتَرْتُهُ عَلَی الْبَابِ فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَی النَّمَطَ عَرَفْتُ الْکَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَجَذَبَهُ حَتَّی هَتَکَهُ أَوْ قَطَعَهُ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَکْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ قَالَتْ فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِکَ عَلَيَّ
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت زید بن خالد جہنی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں آیا اور میں نے عرض کیا کہ حضرت ابوطلحہ مجھے یہ خبر دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جس میں کتے اور تصویریں ہوں تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح یہ حدیث سنی ہے تو حضرت عائشہ نے فرمایا نہیں لیکن میں تم سے وہ واقعہ بیان کروں گی جو میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ جہاد میں تشریف لے گئے میں نے ایک نقش ونگار والا کپڑا لکڑی کے دروازے پر لٹکا دیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور پردہ کو دیکھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس میں ناپسندیدگی کے اثرات پہچان لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ہمیں یہ حکم نہیں دیتا کہ پتھروں اور مٹی کو کپڑا پہنائیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر ہم نے اس پردے کو کاٹ کر دو تکیے بنا لئے اور ان میں کھجوروں کی چھال بھر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس طرح کرنے پر کوئی عیب نہیں لگایا۔
Abu Talha Ansari reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Angels do not enter the house in which there is a picture or portraits. I came to 'A'isha and said to her: This is a news that I have received that Allah's Apostle (may peace be upon him) had said: Angels do not enter the house in which there is a picture or a dog, (and further added) whether she had heard Allah's Messenger (may peace be upon him) making a mention of it. She said: No (I did not hear this myself), but I narrate to you what I saw him doing. I bear testimony to the fact that he (the Holy Prophet) set out for an expedition. I took a carpet and screened the door with it. When he (the Holy Prophet) came back he saw that carpet and I perceived signs of disapproval on his face. He pulled it until it was torn or it was cut (into pieces) and he said: God has not commanded us to clothe stones and clay. We cut it (the curtain) and prepared two pillowa out of it by stuffing them with the fibre of date-palms and he (the Holy Prophet) did not find fault with it.
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ وَکَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ اسْتَقْبَلَهُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوِّلِي هَذَا فَإِنِّي کُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَکَرْتُ الدُّنْيَا قَالَتْ وَکَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ کُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ فَکُنَّا نَلْبَسُهَا
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، داؤود، عروہ، حمید بن عبدالرحمن، سعد بن ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر پرندوں کی تصویر بنی ہوئی تھی اور جب کوئی اندر داخل ہوتا تو یہ تصویریں اس کے سامنے ہوتیں اس کی نظر تصویروں پر پڑتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اس پردے کو نکال دو کیونکہ جب گھر میں داخل ہوتا ہوں اور ان تصویروں کو دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک چادر تھی جس پر نقش ونگار کو ہم ریشمی کہا کرتے تھے اور ہم اسے پہنا کرتے تھے۔
A'isha reported: We had a curtain with us which had portraits of birds upon it. Whenever a visitor came, he found them in front of him. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upop him) said to me: Change them, for whenever I enter the room) I see them and it brings to my mind (the pleasures) of worldly life. She said: We had with us a sheet which had silk badges upon it and we used to wear it.
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَعَبْدُ الْأَعْلَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی وَزَادَ فِيهِ يُرِيدُ عَبْدَ الْأَعْلَی فَلَمْ يَأْمُرْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِهِ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، عبدالاعلی ابن ابی عدی اور عبدالاعلی سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے ابن مثنی کہتے ہیں کہ اس روایت میں عبدالاعلی نے یہ الفاظ زیادہ کہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے کاٹنے کا حکم نہیں فرمایا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Muthanna but with this addition: 'Allah's Messenger (may peace be upon him) did not command us to tear that."
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ سَتَّرْتُ عَلَی بَابِي دُرْنُوکًا فِيهِ الْخَيْلُ ذَوَاتُ الْأَجْنِحَةِ فَأَمَرَنِي فَنَزَعْتُهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابواسامہ ہشام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس تشریف لائے اور میں نے اپنے دروازے پر ایک ریشمی کپڑے کا پردہ ڈالا ہوا تھا جس پر گھوڑوں کی تصویر بنی ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے اتارنے کا حکم دیا تو میں نے وہ پردہ اتار دیا۔
A'isha reported: Allah's Messenger (may peace be upon him) came back from the journey and I had screened my door with a curtain having portraits of winged horses upon it. He commanded me and I pulled it away.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ عَبْدَةَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ عبدہ ابوکریب، حضرت وکیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں یہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائے۔
This hadith has been narrated on the authority of Waki' with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَسَتِّرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةٌ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَهَتَکَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ
منصور بن ابی مزاحم، ابراہیم بن سعد، زہری، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک پردہ لٹکایا ہوا تھا کہ جس میں تصویر تھی یہ تصویر دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کا رنگ تبدیل ہوگیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں۔
A'isha reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) entered (my apartment) and I had hung (on the door of my apartment) a thin curtain having pictures on it. The colour of his face underwent a change. He then took hold of that curtain and tore it and then said: The most grievous torment for the people on the Day of Resurrection would be for those who try to imitate Allah in the act of creation.
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ أَهْوَی إِلَی الْقِرَامِ فَهَتَکَهُ بِيَدِهِ
حرملہ بن یحیی ابن وہب، یونس ابن شہاب قاسم بن محمد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور پھر ابراہیم بن سعد کی روایت کی طرح حدیث نقل کی اس حدیث میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پردے کی طرف جھکے اسے اپنے ہاتھ سے پھاڑ دیا۔
This hadith has been narrated on the authority of A'isha through another chain of transmitters but with a slight variation of wording (and the variation is that the narrator is reported to have said): He (the Holy Prophet) inclined towards that curtain and tore it with his hand.
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا لَمْ يَذْکُرَا مِنْ
یحیی بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن عیینہ اسحاق بن ابراہیم، عبدابن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے صرف لفظی فرق ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَلَمَّا رَآهُ هَتَکَهُ وَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَطَعْنَاهُ فَجَعَلْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان بن عیینہ، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنے دروازے پر ایک پردہ ڈالا ہوا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پردہ کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیاسے پھاڑ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ قیامت کے دن سب سے سخت ترین عذاب اللہ کی طرف سے ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ پھر ہم نے اس پردے کو کاٹ کر ایک تکیہ یا دو تکیے بنا لئے۔
A'isha reported: Allah's Messenger (may peace be upon him) visited me. and I had a shelf with a thin cloth curtain hangin. over it and on which there were portraits. No sooner did he see it than he tore it and the colour of his face underwent a change and he said: A'isha, the most grievous torment from the Hand of Allah on the Day of Resurrection would be for those who imitate (Allah) in the act of His creation. A'isha said: We tore it into pieces and made a cushion or two cushions out of that.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ کَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودٌ إِلَی سَهْوَةٍ فَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ فَقَالَ أَخِّرِيهِ عَنِّي قَالَتْ فَأَخَّرْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالرحمن بن قاسم حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں وہ کپڑا ایک طاق پر لٹکا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا اس کپڑے کو میرے سامنے سے ہٹا دو حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس کپڑے کو کاٹ کر اس کے تکیے بنا لئے۔
A'isha reported she had a cloth havinc, pictures upon it and it was hanging upon the shelf and Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Take it (away) from me (from my sight), so I removed it and made cushions from that.
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
اسحاق بن ابراہیم، عقبہ بن مکرم سعید بن عامر اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر عقدی شعبہ، حضرت شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ وَقَدْ سَتَرْتُ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَنَحَّاهُ فَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، عبدالرحمن بن قاسم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئیں تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پردہ کو ہٹا دیا پھر میں نے اس پردے کے دو تکیے بنا لئے۔
A'isha reported: Allah's Apostle (may peace be upon him) visited me when I had screened (my door) with a carpet having pictures on it. He removed it and we made cushions out of that.
و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَعَهُ قَالَتْ فَقَطَعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَطَائٍ مَوْلَی بَنِي زُهْرَةَ أَفَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْکُرُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ لَا قَالَ لَکِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ
ہارون بن معروف، ابن وہب، عمرو بن حارث، بکیر عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے اس پردہ کو اتار دیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس پردے کو کاٹ کر دو تکیے بنا لئے اسی وقت مجلس میں سے ایک آدمی جسے ربیعہ بن عطار کہا جاتا ہے جو کہ موثی بنی زہرہ ہیں کہنے لگا کیا تو نے ابومحمد سے نہیں سنا وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تکیوں پر آرام فرماتے تھے ابن قاسم نے کہا لیکن میں نے قاسم بن محمد سے سنا ہے۔
A'isha, the wife of Allah's Messenger (may peace be upon him), reported that she had hung a curtain which had pictures upon it. Allah's Messenger (may peace be upon him) entered (the room) and he pulled it. A'isha said: I then tore it and prepared two cushions out of that. A person who was then in that company and whose name was Rabi'a b. 'Ata, the freed slave of Banu Zuhra, asked: Did you hear Abu Mabammad making a mention of A'isha having stated that Allah's Messenger (may peace be upon him) used to recline upon them? lbn al-Qasim said: No, but I heard Qasim b. Muhammad saying so.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَی الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ أَوْ فَعُرِفَتْ فِي وَجْهِهِ الْکَرَاهِيَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَی رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ فَقَالَتْ اشْتَرَيْتُهَا لَکَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِکَةُ
یحیی بن یحیی، مالک نافع، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گدے کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہ لائے تو میں نے پہچان لیا یا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس پر ناپسندیدگی کے اثرات معلوم کر لئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں مجھ سے کیا گناہ ہوگیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تکیہ کیسا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا میں نے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خریدا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تصویریں بنانے والوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے چیز بنائی تم ان کو زندہ کرو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس گھر میں تصویریں ہوں اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
A'isha reported that she bought a carpet which had pictures on it. When Allah's Messenger (may peace be upon him) saw that, he stayed at the door and did not get in. I perceived or I was made to perceive upon his face signs of disgust. She said: Allah's Messenger, I offer repentance to Allah and His Messenger. (but tell me) what is the sin that I have committed. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: What is this carpet? She said: I bought it for you so that you might sit on it and take rest. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: The owners of these pictures would be tormented and they would be asked to bring to life what they tried to create. He then said: Angels do not enter the house in which there is a picture.
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَخِي الْمَاجِشُونِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبَعْضُهُمْ أَتَمُّ حَدِيثًا لَهُ مِنْ بَعْضٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَخِي الْمَاجِشُونِ قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَجَعَلْتُهُ مِرْفَقَتَيْنِ فَکَانَ يَرْتَفِقُ بِهِمَا فِي الْبَيْتِ
قتیبہ ابن رمح لیث، بن سعد اسحاق بن ابراہیم، ثقفی ایوب عبدالوراث بن عبدالصمد ابی جدی ایوب ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، اسامہ بن زید، ابوبکر بن اسحاق ابوسملہ خزاعی عبدالعزیز بن اخی ان ساری سندوں کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس بعض راویوں کی حدیث میں زائد الفاظ کہے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس پردے کے دو تکیے بنا دیے تھے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر آرام فرماتے تھے۔
This hadith has been narrated on the authority of A'isha through another chain of transmitters also. Some of the other ahadith narrated through other chains of transmitters are more complete and there is an addition in them (transmitted through other chains of transmitters). In the hadith transmitted on the authority of the nephew of Majishun she (A'isha) is reported to have said: I took it and prepared two cushions out of that and he (the Holy Prophet) used to recline against them in the house.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابن مثنی یحیی قطان عبیداللہ ابن نمیر، ابی عبد اللہ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ تصویریں بناتے ہیں قیامت کے دن ایسے لوگوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ ان میں جان ڈالو۔
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (may peace be upon him) having said: Those who paint pictures would be punished on the Day of Resurrection and it would be said to them: Breathe soul into what you. have created.
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوربیع ابوکامل حماد زہیر بن حرب، اسماعیل ابن علیہ، ابن عمر ثقفی ایوب نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
Ibn 'Umar reported a hadith like this through another chain of transmitters.
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ وَلَمْ يَذْکُرْ الْأَشَجُّ إِنَّ
عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، ابوسعید، اشج، وکیع، اعمش، ابی ضحی مسروق، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سب سے سخت ترین عذاب تصویریں بنانے والے لوگوں کو ہوگا۔
'Abdullah reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Verity the most grievously tormented people on the Day of Resurrection would be the painters of pictures. Ashajj (one of the narrators) in the hadith narrated by him did not make mention of the word" verity".
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَی وَأَبِي کُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابًا الْمُصَوِّرُونَ وَحَدِيثُ سُفْيَانَ کَحَدِيثِ وَکِيعٍ
یحیی بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابی معاویہ، ابن ابی عمر سفیان، اعمش، یحیی، ابوکریب، حضرت ابومعاویہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن دوزخ میں سے سب سے سخت ترین عذاب میں تصویریں بنانے والے مبتلا ہوں گے۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Mu'awiya through another chain of tranmitters (and the words are):" Verity, the most grievously tormented people amongst the denizens of Hell on the Day of Resurrection would be the painters of pictures. The rest of the hadith is the same.
و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ قَالَ کُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ فِي بَيْتٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ فَقَالَ مَسْرُوقٌ هَذَا تَمَاثِيلُ کِسْرَی فَقُلْتُ لَا هَذَا تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ فَقَالَ مَسْرُوقٌ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ
نصر بن علی، عبدالعزیز بن عبدالصمد، منصور مسلم، صبیح مسروق، حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن صبیح سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں میں حضرت مسروق کے ساتھ ایک گھر میں تھا جس میں تصویریں لگی ہوئی تھیں حضرت مسروق یہ تصویریں کسری کی ہیں میں نے کہا نہیں بلکہ یہ تصویریں حضرت مریم کی ہیں حضرت مسروق کہنے لگے میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے سخت ترین عذاب تصویریں بنانے والوں کو ہوگا۔
Muslim b. Subaih reported: I was with Masruq in the house which had the portrayals of Mary (hadrat Maryam). Thereupon Masruq said: These are portraits of Kisra. I said: No, these are of Mary. Masruq said: I heard Abdullah b, Mas'ud as saying Allah's Messenger (may peace be upon him) had said: The most grievously tormented people on the Day of Resurrection would be the painters of pictures.
قَالَ مُسْلِم قَرَأْتُ عَلَی نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا فَقَالَ لَهُ ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ ثُمَّ قَالَ ادْنُ مِنِّي فَدَنَا حَتَّی وَضَعَ يَدَهُ عَلَی رَأْسِهِ قَالَ أُنَبِّئُکَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ کُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يَجْعَلُ لَهُ بِکُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ و قَالَ إِنْ کُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاصْنَعْ الشَّجَرَ وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ فَأَقَرَّ بِهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ
مسلم، علی، نصر بن علی، عبدالاعلی، سعید بن ابی حسن، حضرت سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا میں مصور ہوں اور تصویریں بناتا ہوں آپ اس بارے میں مجھے فتوی دیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آدمی سے فرمایا میرے قریب ہو جا وہ آپ کے قریب ہوگیا یہاں تک کہ حضرت ابن عباس نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر فرمایا میں تجھ سے وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر ایک تصویر بنانے والا دوزخ میں جائے گا اور ہر ایک تصویر کے بدلہ میں ایک جاندار آدمی بنایا جائے گا جو اسے جہنم میں عذاب دے گا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر تو اس طرح کرنے پر مجبور ہے درخت وغیرہ کی تصویریں بنا۔
(Muslim said): I read this before Nasr b. 'Ali at-Jahdami and he read it before other narrators, the last one being Ibn Sa'id b Abl at Hasan that a person came to Ibn 'Abbas and said: I am the person who paints pictures; give me a religious verdict about them. He (Ibn 'Abbas) said to him: Come near me (still further). He came near him so much so that he placed his hand upon his head and said: I am going to narrate to you what I heard from Allah's Messenger (may peace be upon him). I heard him say: All the painters who make pictures would be in the fire of Hell. The soul will be breathed in every picture prepared by him and it shall punish him in the Hell, and he (Ibn 'Abbas) said: If you have to do it at all, then paint the pictures of trees and lifeless things; and Nasr b. 'Ali confirmed it.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَعَلَ يُفْتِي وَلَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ادْنُهْ فَدَنَا الرَّجُلُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، سعید بن ابی عروبہ بن انس بن مالک، حضرت نفر بن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا تھا حضرت ابن عباس فتوی تو دیتے تھے اور یہ نہیں کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا ہے یہاں تک کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ میں مصور ہوں تصویریں بناتا ہوں تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آدمی سے فرمایا قریب ہو جا وہ آدمی قریب ہوگیا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو آدمی دنیا میں تصویر بناتا ہے تو قیامت کے دن اسے اس بات پر مجبور کردیا جائے گا کہ اس تصویر میں روح پھونک اور وہ روح نہیں پھونک سکے گا۔
Anas b. Malik said: I was sitting with Ibn Ahbas when he gave religious verdicts but he did not say that it was Allah's Messenger (may peace be upon him) who had said that. However when a man said to him (Ibn 'Abbas): I am the painter of these pictures. Ibn 'Abbas said: I heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: He who painted pictures in the world would be compelled to breathe soal in them on the Day of Resurrection, but he would not be able to breathe soul (in them).
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابوغسان مسمعی محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام ابوقتادہ، حضرت نضر بن انس سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے اس آدمی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حدیث کی طرح ذکر کیا۔
Nadr b. Anas reported that a person came to Ibn 'Abbas and he narrated (the above menlioned hadith) from Allah's Apostle (may peace be upon him).
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي دَارِ مَرْوَانَ فَرَأَی فِيهَا تَصَاوِيرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا کَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوکریب، ابن فضیل، عمارہ ابوزرعة، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابوزرعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مروان کے گھر گیا وہاں میں نے تصویریں دیکھیں تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو میری مخلوق کی طرح چیز بناتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ ایک چیونٹی ہی پیدا کر کے دکھائیں یا ایک دانہ گندم یا جو ہی پیدا کردیں۔
Abu Zur'a reported: I visited the house of Marwan in the company of Abu Huraira and he found pictures there. whereupon he said: I heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Allah, the Glorious and Exalted, said: Who is a more wrongdoer than one who tries to create creation like Mine creation. Let him create an atom or a grain of wheat or that of barley.
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ دَارًا تُبْنَی بِالْمَدِينَةِ لِسَعِيدٍ أَوْ لِمَرْوَانَ قَالَ فَرَأَی مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ فِي الدَّارِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً
زہیر بن حرب، جریر، عمارہ، ابوزرعہ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوزرعہ سے روایت ہے کہ میں اور حضرت ابوہریرہ مدینہ منورہ کے ایک مکان میں گئے جو کہ زیر تعمیر تھا وہ مکان سعید کا تھا یا مروان کا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس گھر میں ایک مصور کو تصویریں بناتے ہوئے دیکھا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (مذکورہ حدیث کی طرح) اور اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ تم جو پیدا کرو۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Zur'a and he said: Abu Huraira went to the house of Sa'ld or Marwan which they had built in Medina and he (Abu Huraira) saw a painter who had been painting pictures in his house, whereupon he told that Allah's Messenger (may peace be upon him) had said like this, but he made no mention of the words:" Let him create the grain of barley."
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَةُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ تَصَاوِيرُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، سہیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جس میں مورتیاں یا تصویریں ہوں۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Angels do not enter the house in which there are portrayals or pictures.