حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَکْتُبَ إِلَی الرُّومِ قَالَ قَالُوا إِنَّهُمْ لَا يَقْرَئُونَ کِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا قَالَ فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس، بن مالک حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہ روم کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا کہ وہ اس خط کو مہر دیکھے بغیر نہیں پڑھیں گے راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی گویا کہ میں رسول اللہ کے ہاتھ مبارک میں اب بھی اس انگوٹھی کی سفیدی دیکھ رہا ہوں اس انگوٹھی کا نقش محمد رسول اللہ تھا۔
Anas b. Malik reported that when Allah's Messenger (may peace be upon him) decided to write letters to the Byzantine (Emperor) they (his Companions) told him that they would not read a letter unless it is sealed. (Then) Allah's Messenger (may peace be upon him) had a silver ring made (for himealf), (its shape is too vivid in my mind) as if I see its brightness in the band of Allah's Messenger (may peace be upon him) and its engravement was (Muhammad, Messenger of Allah).
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ أَرَادَ أَنْ يَکْتُبَ إِلَی الْعَجَمِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ الْعَجَمَ لَا يَقْبَلُونَ إِلَّا کِتَابًا عَلَيْهِ خَاتَمٌ فَاصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ قَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام ابوقتادہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجم والوں کی طرف خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ عجم والے بغیر مہر کے خط کو قبول نہیں کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی راوی کہتے ہیں گویا کہ میں اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں اس انگوٹھی کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔
Anas reported that when Allah's Apostle (may peace be upon him) decided to write (letters) to non-Arabs (i. e. Persian and Byzantine Emperors) it was said to him that the non-Arabs would not accept a letter but that having a seal over it; so he (the Holy Prophet) got a silver ring made. He (Anas) said: I perceive as if I am looking at its brightness in his hand.
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَکْتُبَ إِلَی کِسْرَی وَقَيْصَرَ وَالنَّجَاشِيِّ فَقِيلَ إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ کِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ فَصَاغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا حَلْقَتُهُ فِضَّةً وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
نصر بن علی جہضمی نوح بن قیس اخیہ خالد بن قیس قتادہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسری اور قیصر اور نجاشی کی طرف خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ وہ لوگ بغیر مہر لگے خط کو قبول نہیں کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی جس کا چھلہ چاندی کا تھا اور اس میں محمد رسول اللہ کا نقش تھا۔
Anas reported that when Allah's Apostle (may peace be upon him) decided to write to the Kisri (the King of Persia), Caesar (Emperor of Rome), and the Negus (the Emperor of Abyssinia), it was said to him that they would not accept the letter without the seal over it; so Allah's Messenger (may peace be upon him) got a seal made, the ring of which was made of silver and there was engraved on it. (Muhammad. the Messenger of Allah).