TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 1529 · Explanation of Hajj

Sahih BukhariHadith 1529

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ قَالَ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ قَالَ عَاصِمٌ فَحَلَفَ عِکْرِمَةُ مَا کَانَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا عَلَی بَعِيرٍ

محمد بن سلام، فزاری، شعبی، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا، تو آپ نے کھڑے ہو کر پیا، عاصم نے بیان کیا کہ عکرمہ نے قسم کھا کر بیان کیا کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر سوار تھے۔

Narrated Ibn Abbas: I gave Zam-zam water to Allah's Apostle and he drank it while standing. 'Asia (a sub-narrator) said that 'Ikrima took the oath that on that day the Prophet had not been standing but riding a camel. ________________________________________

Permalink

See the full chapter: ان روایتوں کا بیان جو زمزم کے متعلق منقول ہیں، اور عبدان نے بواسطہ عبد اللہ، یونس، زہری، انس بن مالک سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری چھت کھول دی گئی، اس حال میں کہ میں مکہ میں تھا، پس جبریل اترے اور میرے سینہ کو چاک کیا، پھر اس کو زمزم کے پانی کے ساتھ دھویا، پھر ایک سونے کا طشت لے کر آئے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، تو اس کو میرے سینہ میں انڈیل دیا، پھر اس کو جوڑ دیا، اور میرے ہاتھ پکڑ کر آسمان دنیا پر چڑھالے گئے تو جبریل نے آسمان دنیا کے خازن سے کہا کہ کھولو، پوچھا کون؟ کہا جبریل!