TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 172 · Discussion on Wudu

Sahih BukhariHadith 172

Narrated by 'Ali

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُنْذِرٍ أَبِي يَعْلَی الْثَّوْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ کُنْتُ رَجُلًا مَذَّائً فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ فِيهِ الْوُضُوئُ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ

قتیبہ، جریر، اعمش، منذر، ابویعلیٰ، ثوری، محمد بن حنفیہ سے روایت ہے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ میری منی بکثرت نکلتی تھی، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرمایا اور میں نے مقداد بن اسود سے کہا، انہوں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ منی کے نکلنے میں وضو (فرض) ہو جاتا ہے۔

Narrated 'Ali: I used to get emotional urethral discharges frequently and felt shy to ask Allah's Apostle about it. So I requested Al-Miqdad bin Al-Aswad to ask (the Prophet) about it. Al-Miqdad asked him and he replied, "One has to perform ablution (after it)."

Permalink

See the full chapter: اسلاف میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جو صرف پاخانہ پیشاب کے بعد وضو کو فرض سمجھتے ہیں، اس کے علاوہ کسی چیز سے وضو فرض نہیں سمجھتے، ان کی دلیل یہ آیت ہے او جاء احد منکم من الغائط، عطاء نے اس شخص کے بارے میں جس کے پیچھے سے کیڑا خارج ہو یا اس کے عضو خاص سے جوں کی مثل کوئی چیز نکلے، یہ کہا ہے کہ وضو کا اعادہ کر لے، جابر بن عبداللہ نے کہا ہے کہ جب کوئی نماز میں ہنس پڑے، تو وہ اس کا اعادہ کر لے اور وضو کا اعادہ نہ کرے، حسن (بصری) نے کہا ہے اگر ( کوئی) شخص اپنے بال یا اپنے ناخن کترواۓ یا اپنے موزے اتار ڈالے تو اس پر وضو (فرض) نہیں، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے کہ وضو فرض نہیں ہوتا مگر حدث کے سبب سے اور جابر سے نقل کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ ذات الرقاع میں تھے، ایک شخص کو تیر مارا گیا ، جس سے ان کا خون نکل آیا، مگر انہوں نے رکوع کیا اور سجدہ کیا اور اپنی نماز پر قائم رہے، حسن بصری کہتے ہیں کہ مسلمان برابر اپنے زخموں میں نماز پڑھا کرتے تھے اور طاؤس اور محمد بن علی اور عطاء اور اہل حجاز کہتے ہیں کہ خون (نکلنے) سے وضو (فرض) نہیں ہوتا، ابن عمر نے اپنی ایک پھنسی کو دبا دیا اور اس سے خون نکلا، مگر انہوں نے وضو نہیں کیا اور ابن ابی اوفی نے خون تھوکا مگر وہ اپنی نماز میں قائم رہے اور ابن عمر اور حسن (بصری) اس شخص کے بارے میں جو پچھنے لگوائے، یہ کہتے ہیں کہ اس پر صرف اپنے پچھنے کے مقامات کا دھونا ضروری ہے