TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1771 · Discussion on Marriage

Sunan Abu DawoodHadith 1771

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَی وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنْ النِّسَائِ قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَکُونُ فِي حِجْرِ وَلِيِّهَا فَتُشَارِکُهُ فِي مَالِهِ فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ فَنُهُوا أَنْ يَنْکِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَی سُنَّتِهِنَّ مِنْ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا أَنْ يَنْکِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنْ النِّسَائِ سِوَاهُنَّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْتَفْتُونَکَ فِي النِّسَائِ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيکُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَی عَلَيْکُمْ فِي الْکِتَابِ فِي يَتَامَی النِّسَائِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا کُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوهُنَّ قَالَتْ وَالَّذِي ذَکَرَ اللَّهُ أَنَّهُ يُتْلَی عَلَيْهِمْ فِي الْکِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَی الَّتِي قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ فِيهَا وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنْ النِّسَائِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآيَةِ الْآخِرَةِ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوهُنَّ هِيَ رَغْبَةُ أَحَدِکُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي تَکُونُ فِي حِجْرِهِ حِينَ تَکُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا أَنْ يَنْکِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَی النِّسَائِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ قَالَ يُونُسُ وَقَالَ رَبِيعَةُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی قَالَ يَقُولُ اتْرُکُوهُنَّ إِنْ خِفْتُمْ فَقَدْ أَحْلَلْتُ لَکُمْ أَرْبَعًا

احمد بن عمر سرح، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ اگر تم یتیم لڑکیوں کے حق میں نا انصافی کا اندیشہ رکھتے ہو تو پھر ان کے علاوہ جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اے بھانجے یتیمہ سے مراد وہ لڑکی ہے جو اپنے ولی کے گھر پرورش پاتی ہے اور ولی کے مال میں شریک ہے اور ولی اسکے مال اور جمال کو پسند کرتا ہو اس بنا پر وہ اس سے نکاح کا ارادہ کرے مگر مہر کے معاملہ میں وہ اس سے انصاف نہ کر سکتا ہو یعنی وہ اسکو اتنا مہر نہ دے سکے جتنا کوئی اور شخص اس سے نکاح کی صورت میں دے سکتا ہے تو وہ اس سے نکاح سے باز رہے اسکی ممانعت ہوئی کہ نکاح نہ کرے مگر جبکہ انصاف کرے اور پورا مہر جو اونچے سے اونچا اس کے لائق ہو ادا کرے بصورت دیگر حکم ہوا کہ اس کے علاوہ کسی اور عورت سے جو پسند ہو نکاح کرلے عروہ نے کہا پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس آیت کے نزول کے بعد لوگوں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یتیم لڑکیوں کی بابت سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی (ترجمہ) اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تم سے عورتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں فرمادیجئے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ان عورتوں کا حکم بتاتا ہے اور جو کچھ پڑھا جاتا ہے کتاب میں ان یتیم بچیوں کے بارے میں جن کے تم وہ نہیں دینا چاہتے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے (یعنی مہر) اور ان سے نکاح کی خواہش رکھتے ہو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا یہ جو اللہ نے فرمایا ہے پڑھا جاتا ہے ان پر کتاب میں اس یس مراد وہی پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اھر تم اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو تم انکو چھوڑ کر دوسری پسندیدہ عورتوں سے نکاح کرلو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہ جو دوسری آیت میں ارشاد فرماتا ہے اور تم ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو اس سے یہی غرض ہے کہ تم میں سے کسی کے پاس یتیم لڑکی ہو جو تھوڑے مال والی اور کم حسن والی ہو (تو وہ اس سے نکاح کرنے میں رغبت نہیں رکھتا) پھر جب رغبت ہو اس سے نکاح کرنے میں بوجہ زیادتی مال وجمال کے لیکن عدل وانصاف نہ کر سکے تو پہلی آیت کی رو سے اس سے نکاح نہ کرے یونس نے کیا کہ ربیعہ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ آیت قرآنی اگر تم کو اند یشہ ہے کہ تم یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کر سکو گے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو عدم انصاف کو خوف ہے تو ان کو چھوڑ دو (اور دوسری عورتوں سے نکاح کرلو) کیونکہ تم کو چار عورتوں تک نکاح کی اجازت ہے

-

Permalink

See the full chapter: ان عورتوں کا بیان جن سے ایک ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں