TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1772 · Discussion on Marriage

Sunan Abu DawoodHadith 1772

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيْلِيُّ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ لَهُ هَلْ لَکَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَا قَالَ هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَکَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّی يُبْلَغَ إِلَی نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَی فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِکَ عَلَی مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا قَالَ ثُمَّ ذَکَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَی عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَّی لِي وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا وَلَکِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ مَکَانًا وَاحِدًا أَبَدًا

احمد بن محمد بن حنبل، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ولید بن کثیر، محمد بن عمرو بن حلحلہ، ابن شہاب، حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے پاس سے لوٹ کر مدینہ آئے تو مسور بن مخرمہ ان سے ملے اور کہا کہ میرے لائق خدمت ہو تو فرمائیے میں نے کہا نہیں اس کے بعد مسور بن مخرمہ نے کہا کیا تم مجھے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار دیتے ہو؟ مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ لوگ تم سے تلوار چھین نہ لیں اور اگر تم مجھے دیدو گے تو بخدا جب تک میرے دم میں دم ہے وہ تلوار مجھ سے کوئی نہ لے سکے گا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی سے پیغام نکاح دیا تھا تو میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی موضوع پر اسی منبر خطبہ دیا تھا اور ان دنوں میں جوان تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ دین کے بارے میں کسی فتنہ میں نہ پڑ جائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دوسرے داماد کا ذکر کیا جسکا تعلق بنی عبدالشمس سے تھا (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکے دامادی رشتہ کی خوب تعریف کی اور فرمایا اس نے جو بات مجھ سے کہی سچ کر دکھایا اور جو وعدہ کیا اسکو پورا کیا میں کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہیں کر رہا ہوں البتہ اتنا ضرور کہتا ہوں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی اور دشمن کی بیٹی ایک جگہ ہرگز جمع نہ ہوں گی

-

Permalink

See the full chapter: ان عورتوں کا بیان جن سے ایک ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں