TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1972 · Explanation of Fasting

Sunan Abu DawoodHadith 1972

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ عَنْ عِکْرَمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَلَی الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْکِينٍ فَکَانَ مَنْ شَائَ مِنْهُمْ أَنْ يَفْتَدِيَ بِطَعَامِ مِسْکِينٍ افْتَدَی وَتَمَّ لَهُ صَوْمُهُ فَقَالَ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَکُمْ و قَالَ فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمْ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ کَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ

احمد بن محمد، علی بن حسین، یزید، عکرمہ، ابن عباس سے روایت کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَه فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ) 2۔ البقرۃ : 184) یعنی جو لوگ باوجود طاقت و قوت کے روزہ نہ رکھنا چاہیں تو ان پر بطور فدیہ دینا چاہتا وہ فدیہ دیتا ہے اور اس کے روزہ کی تکمیل سمجھی جاتی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (ترجمہ) جو شخص اپنے طور پر مزید بھلائی کرنا چاہے تو اس کے حق میں بہتر ہے مگر روزہ رکھنا ہی تمھارے لیے بہتر ہے۔ اس کے بعد یہ حکم نازل ہوا کہ (ترجمہ) تم میں سے جو شخص ماہ رمضان کو پائے وہ اس کے روزے رکھے البتہ جو شخص بیمار ہو یا حالت سفر میں ہو تو انپے روزوں کی گنتی دوسرے دنوں میں پوری کر لے۔

-

Permalink

See the full chapter: آیت قرآنی وعلی الذین یطیقو نہ فد یتہ کی منسو خی کا بیان