TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 1375 · Explanation of Friday Prayer

Sunan An-Nasa'iHadith 1375

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ الْأَذَانَ کَانَ أَوَّلُ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ عَلَی الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ فَلَمَّا کَانَ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ وَکَثُرَ النَّاسُ أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالْأَذَانِ الثَّالِثِ فَأُذِّنَ بِهِ عَلَی الزَّوْرَائِ فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَی ذَلِکَ

محمد بن سلمہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سائب بن یزید سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر اور عمر کے دور میں پہلی اذان جمعہ کی اس وقت ہوا کرتی تھی کہ جس وقت امام منبر پر بیٹھتا پس جس وقت عثمان کی خلافت قائم ہوگئی اور لوگ کافی تعداد میں ہوگئے تو انہوں نے تیسری اذان کا جمعہ کے دن حکم کیا مع تکبیریں۔ اذان ہوگئی تو اذان دی گئی تو مقام زوراء پر اذان دی گئی (مدینہ میں ایک جگہ کا نام)۔ اس کے بعد اس طرح سے حکم قائم رہا۔

It was narrated that As-Sa’ib bin Yazid said: “Bilal used to call the Adj when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم sat on the Minbar on Friday, and when he came down he would say the Iqamah. It continued like that during the time of Abu Bakr and ‘Umar, may Allah be pleased with them.” (Sahih)

Permalink

See the full chapter: اذان جمعہ سے متعلق احادیث